Surah 78: An-Naba — النبأ
عَمَّ يَتَسَآءَلُونَ
یہ لوگ کس چیز کے بارے میں پوچھ گچھ کر رہے ہیں؟
عَنِ ٱلنَّبَإِ ٱلْعَظِيمِ
کیا اُس بڑی خبر کے بارے میں
ٱلَّذِى هُمْ فِيهِ مُخْتَلِفُونَ
جس کے متعلق یہ مختلف چہ میگوئیاں کرنے میں لگے ہوئے ہیں؟
كَلَّا سَيَعْلَمُونَ
ہرگز نہیں، عنقریب اِنہیں معلوم ہو جائیگا
ثُمَّ كَلَّا سَيَعْلَمُونَ
ہاں، ہرگز نہیں، عنقریب اِنہیں معلوم ہو جائے گا
أَلَمْ نَجْعَلِ ٱلْأَرْضَ مِهَٰدًۭا
کیا یہ واقعہ نہیں ہے کہ ہم نے زمین کو فرش بنایا
وَٱلْجِبَالَ أَوْتَادًۭا
اور پہاڑوں کو میخوں کی طرح گاڑ دیا
وَخَلَقْنَٰكُمْ أَزْوَٰجًۭا
اور تمہیں (مَردوں اور عورتوں کے) جوڑوں کی شکل میں پیدا کیا
وَجَعَلْنَا نَوْمَكُمْ سُبَاتًۭا
اور تمہاری نیند کو باعث سکون بنایا
وَجَعَلْنَا ٱلَّيْلَ لِبَاسًۭا
اور رات کو پردہ پوش
وَجَعَلْنَا ٱلنَّهَارَ مَعَاشًۭا
اور دن کو معاش کا وقت بنایا
وَبَنَيْنَا فَوْقَكُمْ سَبْعًۭا شِدَادًۭا
اور تمہارے اوپر سات مضبوط آسمان قائم کیے
وَجَعَلْنَا سِرَاجًۭا وَهَّاجًۭا
اور ایک نہایت روشن اور گرم چراغ پیدا کیا
وَأَنزَلْنَا مِنَ ٱلْمُعْصِرَٰتِ مَآءًۭ ثَجَّاجًۭا
اور بادلوں سے لگاتار بارش برسائی
لِّنُخْرِجَ بِهِۦ حَبًّۭا وَنَبَاتًۭا
تاکہ اس کے ذریعہ سے غلہ اور سبزی
وَجَنَّٰتٍ أَلْفَافًا
اور گھنے باغ اگائیں؟
إِنَّ يَوْمَ ٱلْفَصْلِ كَانَ مِيقَٰتًۭا
بے شک فیصلے کا دن ایک مقرر وقت ہے
يَوْمَ يُنفَخُ فِى ٱلصُّورِ فَتَأْتُونَ أَفْوَاجًۭا
جس روز صور میں پھونک مار دی جائے گی، تم فوج در فوج نکل آؤ گے
وَفُتِحَتِ ٱلسَّمَآءُ فَكَانَتْ أَبْوَٰبًۭا
اور آسمان کھول دیا جائے گا حتیٰ کہ وہ دروازے ہی دروازے بن کر رہ جائے گا
وَسُيِّرَتِ ٱلْجِبَالُ فَكَانَتْ سَرَابًا
اور پہاڑ چلائے جائیں گے یہاں تک کہ وہ سراب ہو جائیں گے
إِنَّ جَهَنَّمَ كَانَتْ مِرْصَادًۭا
درحقیقت جہنم ایک گھات ہے
لِّلطَّٰغِينَ مَـَٔابًۭا
سرکشوں کا ٹھکانا
لَّٰبِثِينَ فِيهَآ أَحْقَابًۭا
جس میں وہ مدتوں پڑے رہیں گے
لَّا يَذُوقُونَ فِيهَا بَرْدًۭا وَلَا شَرَابًا
اُس کے اندر کسی ٹھنڈک اور پینے کے قابل کسی چیز کا مزہ وہ نہ چکھیں گے
إِلَّا حَمِيمًۭا وَغَسَّاقًۭا
کچھ ملے گا تو بس گرم پانی اور زخموں کا دھوون
جَزَآءًۭ وِفَاقًا
(اُن کے کرتوتوں) کا بھرپور بدلہ
إِنَّهُمْ كَانُوا۟ لَا يَرْجُونَ حِسَابًۭا
وہ کسی حساب کی توقع نہ رکھتے تھے
وَكَذَّبُوا۟ بِـَٔايَٰتِنَا كِذَّابًۭا
اور ہماری آیات کو انہوں نے بالکل جھٹلا دیا تھا
وَكُلَّ شَىْءٍ أَحْصَيْنَٰهُ كِتَٰبًۭا
اور حال یہ تھا کہ ہم نے ہر چیز گن گن کر لکھ رکھی تھی
فَذُوقُوا۟ فَلَن نَّزِيدَكُمْ إِلَّا عَذَابًا
اب چکھو مزہ، ہم تمہارے لیے عذاب کے سوا کسی چیز میں ہرگز اضافہ نہ کریں گے
إِنَّ لِلْمُتَّقِينَ مَفَازًا
یقیناً متقیوں کے لیے کامرانی کا ایک مقام ہے
حَدَآئِقَ وَأَعْنَٰبًۭا
باغ اور انگور
وَكَوَاعِبَ أَتْرَابًۭا
اور نوخیر ہم سن لڑکیاں
وَكَأْسًۭا دِهَاقًۭا
اور چھلکتے ہوئے جام
لَّا يَسْمَعُونَ فِيهَا لَغْوًۭا وَلَا كِذَّٰبًۭا
وہاں کوئی لغو اور جھوٹی بات وہ نہ سنیں گے
جَزَآءًۭ مِّن رَّبِّكَ عَطَآءً حِسَابًۭا
جزا اور کافی انعام تمہارے رب کی طرف سے
رَّبِّ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا ٱلرَّحْمَٰنِ ۖ لَا يَمْلِكُونَ مِنْهُ خِطَابًۭا
اُس نہایت مہربان خدا کی طرف سے جو زمین اور آسمانوں کا اور ان کے درمیان کی ہر چیز کا مالک ہے جس کے سامنے کسی کو بولنے کا یارا نہیں
يَوْمَ يَقُومُ ٱلرُّوحُ وَٱلْمَلَٰٓئِكَةُ صَفًّۭا ۖ لَّا يَتَكَلَّمُونَ إِلَّا مَنْ أَذِنَ لَهُ ٱلرَّحْمَٰنُ وَقَالَ صَوَابًۭا
جس روز روح اور ملائکہ صف بستہ کھڑے ہونگے، کوئی نہ بولے گا سوائے اُس کے جسے رحمٰن اجازت دے اور جو ٹھیک بات کہے
ذَٰلِكَ ٱلْيَوْمُ ٱلْحَقُّ ۖ فَمَن شَآءَ ٱتَّخَذَ إِلَىٰ رَبِّهِۦ مَـَٔابًا
وہ دن برحق ہے، اب جس کا جی چاہے اپنے رب کی طرف پلٹنے کا راستہ اختیار کر لے
إِنَّآ أَنذَرْنَٰكُمْ عَذَابًۭا قَرِيبًۭا يَوْمَ يَنظُرُ ٱلْمَرْءُ مَا قَدَّمَتْ يَدَاهُ وَيَقُولُ ٱلْكَافِرُ يَٰلَيْتَنِى كُنتُ تُرَٰبًۢا
ہم نے تم لوگوں کو اُس عذاب سے ڈرا دیا ہے جو قریب آ لگا ہے جس روز آدمی وہ سب کچھ دیکھ لے گا جو اس کے ہاتھوں نے آگے بھیجا ہے، اور کافر پکار اٹھے گا کہ کاش میں خاک ہوتا
Surah 79: An-Naziat — النازعات
وَٱلنَّٰزِعَٰتِ غَرْقًۭا
قسم ہے اُن (فرشتوں کی) جو ڈوب کر کھینچتے ہیں
وَٱلنَّٰشِطَٰتِ نَشْطًۭا
اور آہستگی سے نکال لے جاتے ہیں
وَٱلسَّٰبِحَٰتِ سَبْحًۭا
اور (اُن فرشتوں کی جو کائنات میں) تیزی سے تیرتے پھرتے ہیں
فَٱلسَّٰبِقَٰتِ سَبْقًۭا
پھر (حکم بجا لانے میں) سبقت کرتے ہیں
فَٱلْمُدَبِّرَٰتِ أَمْرًۭا
پھر (احکام الٰہی کے مطابق) معاملات کا انتظام چلاتے ہیں
يَوْمَ تَرْجُفُ ٱلرَّاجِفَةُ
جس روز ہلا مارے گا زلزلے کا جھٹکا
تَتْبَعُهَا ٱلرَّادِفَةُ
اور اس کے پیچھے ایک اور جھٹکا پڑے گا
قُلُوبٌۭ يَوْمَئِذٍۢ وَاجِفَةٌ
کچھ دل ہوں گے جو اُس روز خوف سے کانپ رہے ہوں گے
أَبْصَٰرُهَا خَٰشِعَةٌۭ
نگاہیں اُن کی سہمی ہوئی ہوں گی
يَقُولُونَ أَءِنَّا لَمَرْدُودُونَ فِى ٱلْحَافِرَةِ
یہ لوگ کہتے ہیں "کیا واقعی ہم پلٹا کر پھر واپس لائے جائیں گے؟
أَءِذَا كُنَّا عِظَٰمًۭا نَّخِرَةًۭ
کیا جب ہم کھوکھلی بوسیدہ ہڈیاں بن چکے ہوں گے؟"
قَالُوا۟ تِلْكَ إِذًۭا كَرَّةٌ خَاسِرَةٌۭ
کہنے لگے "یہ واپسی تو پھر بڑے گھاٹے کی ہوگی!"
فَإِنَّمَا هِىَ زَجْرَةٌۭ وَٰحِدَةٌۭ
حالانکہ یہ بس اتنا کام ہے کہ ایک زور کی ڈانٹ پڑے گی
فَإِذَا هُم بِٱلسَّاهِرَةِ
اور یکایک یہ کھلے میدان میں موجود ہوں گے
هَلْ أَتَىٰكَ حَدِيثُ مُوسَىٰٓ
کیا تمہیں موسیٰؑ کے قصے کی خبر پہنچی ہے؟
إِذْ نَادَىٰهُ رَبُّهُۥ بِٱلْوَادِ ٱلْمُقَدَّسِ طُوًى
جب اس کے رب نے اُسے طویٰ کی مقدس وادی میں پکارا تھا
ٱذْهَبْ إِلَىٰ فِرْعَوْنَ إِنَّهُۥ طَغَىٰ
کہ "فرعون کے پاس جا، وہ سرکش ہو گیا ہے
فَقُلْ هَل لَّكَ إِلَىٰٓ أَن تَزَكَّىٰ
اور اس سے کہہ کیا تو اِس کے لیے تیار ہے کہ پاکیزگی اختیار کرے
وَأَهْدِيَكَ إِلَىٰ رَبِّكَ فَتَخْشَىٰ
اور میں تیرے رب کی طرف تیری رہنمائی کروں تو (اُس کا) خوف تیرے اندر پیدا ہو؟"
فَأَرَىٰهُ ٱلْءَايَةَ ٱلْكُبْرَىٰ
پھر موسیٰؑ نے (فرعون کے پاس جا کر) اُس کو بڑی نشانی دکھائی
فَكَذَّبَ وَعَصَىٰ
مگر اُس نے جھٹلا دیا اور نہ مانا
ثُمَّ أَدْبَرَ يَسْعَىٰ
پھر چالبازیاں کرنے کے لیے پلٹا
فَحَشَرَ فَنَادَىٰ
اور لوگوں کو جمع کر کے اس نے پکار کر کہا
فَقَالَ أَنَا۠ رَبُّكُمُ ٱلْأَعْلَىٰ
"میں تمہارا سب سے بڑا رب ہوں"
فَأَخَذَهُ ٱللَّهُ نَكَالَ ٱلْءَاخِرَةِ وَٱلْأُولَىٰٓ
آخرکار اللہ نے اسے آخرت اور دنیا کے عذاب میں پکڑ لیا
إِنَّ فِى ذَٰلِكَ لَعِبْرَةًۭ لِّمَن يَخْشَىٰٓ
درحقیقت اِس میں بڑی عبرت ہے ہر اُس شخص کے لیے جو ڈرے
ءَأَنتُمْ أَشَدُّ خَلْقًا أَمِ ٱلسَّمَآءُ ۚ بَنَىٰهَا
کیا تم لوگوں کی تخلیق زیادہ سخت کام ہے یا آسمان کی؟ اللہ نے اُس کو بنایا
رَفَعَ سَمْكَهَا فَسَوَّىٰهَا
اُس کی چھت خوب اونچی اٹھائی پھر اُس کا توازن قائم کیا
وَأَغْطَشَ لَيْلَهَا وَأَخْرَجَ ضُحَىٰهَا
اور اُس کی رات ڈھانکی اور اُس کا دن نکالا
وَٱلْأَرْضَ بَعْدَ ذَٰلِكَ دَحَىٰهَآ
اِس کے بعد زمین کو اس نے بچھایا
أَخْرَجَ مِنْهَا مَآءَهَا وَمَرْعَىٰهَا
اُس کے اندر سے اُس کا پانی اور چارہ نکالا
وَٱلْجِبَالَ أَرْسَىٰهَا
اور پہاڑ اس میں گاڑ دیے
مَتَٰعًۭا لَّكُمْ وَلِأَنْعَٰمِكُمْ
سامان زیست کے طور پر تمہارے لیے اور تمہارے مویشیوں کے لیے
فَإِذَا جَآءَتِ ٱلطَّآمَّةُ ٱلْكُبْرَىٰ
پھر جب وہ ہنگامہ عظیم برپا ہوگا
يَوْمَ يَتَذَكَّرُ ٱلْإِنسَٰنُ مَا سَعَىٰ
جس روز انسان اپنا سب کیا دھرا یاد کرے گا
وَبُرِّزَتِ ٱلْجَحِيمُ لِمَن يَرَىٰ
اور ہر دیکھنے والے کے سامنے دوزخ کھول کر رکھ دی جائے گی
فَأَمَّا مَن طَغَىٰ
تو جس نے سرکشی کی تھی
وَءَاثَرَ ٱلْحَيَوٰةَ ٱلدُّنْيَا
اور دنیا کی زندگی کو ترجیح دی تھی
فَإِنَّ ٱلْجَحِيمَ هِىَ ٱلْمَأْوَىٰ
دوزخ ہی اس کا ٹھکانا ہوگی
وَأَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِۦ وَنَهَى ٱلنَّفْسَ عَنِ ٱلْهَوَىٰ
اور جس نے اپنے رب کے سامنے کھڑے ہونے کا خوف کیا تھا اور نفس کو بری خواہشات سے باز رکھا تھا
فَإِنَّ ٱلْجَنَّةَ هِىَ ٱلْمَأْوَىٰ
جنت اس کا ٹھکانا ہوگی
يَسْـَٔلُونَكَ عَنِ ٱلسَّاعَةِ أَيَّانَ مُرْسَىٰهَا
یہ لوگ تم سے پوچھتے ہیں کہ "آخر وہ گھڑی کب آ کر ٹھیرے گی؟"
فِيمَ أَنتَ مِن ذِكْرَىٰهَآ
تمہارا کیا کام کہ اس کا وقت بتاؤ
إِلَىٰ رَبِّكَ مُنتَهَىٰهَآ
اس کا علم تو اللہ پر ختم ہے
إِنَّمَآ أَنتَ مُنذِرُ مَن يَخْشَىٰهَا
تم صرف خبردار کرنے والے ہو ہر اُس شخص کو جو اُس کا خوف کرے
كَأَنَّهُمْ يَوْمَ يَرَوْنَهَا لَمْ يَلْبَثُوٓا۟ إِلَّا عَشِيَّةً أَوْ ضُحَىٰهَا
جس روز یہ لوگ اسے دیکھ لیں گے تو انہیں یوں محسوس ہوگا کہ (یہ دنیا میں یا حالت موت میں) بس ایک دن کے پچھلے پہر یا اگلے پہر تک ٹھیرے ہیں
Surah 80: Abasa — عبس
عَبَسَ وَتَوَلَّىٰٓ
ترش رو ہوا، اور بے رخی برتی
أَن جَآءَهُ ٱلْأَعْمَىٰ
اِس بات پر کہ وہ اندھا اُس کے پاس آ گیا
وَمَا يُدْرِيكَ لَعَلَّهُۥ يَزَّكَّىٰٓ
تمہیں کیا خبر، شاید وہ سدھر جائے
أَوْ يَذَّكَّرُ فَتَنفَعَهُ ٱلذِّكْرَىٰٓ
یا نصیحت پر دھیان دے، اور نصیحت کرنا اس کے لیے نافع ہو؟
أَمَّا مَنِ ٱسْتَغْنَىٰ
جو شخص بے پروائی برتتا ہے
فَأَنتَ لَهُۥ تَصَدَّىٰ
اس کی طرف تو تم توجہ کرتے ہو
وَمَا عَلَيْكَ أَلَّا يَزَّكَّىٰ
حالانکہ اگر وہ نہ سدھرے تو تم پر اس کی کیا ذمہ داری ہے؟
وَأَمَّا مَن جَآءَكَ يَسْعَىٰ
اور جو خود تمہارے پاس دوڑا آتا ہے
وَهُوَ يَخْشَىٰ
اور وہ ڈر رہا ہوتا ہے
فَأَنتَ عَنْهُ تَلَهَّىٰ
اس سے تم بے رخی برتتے ہو
كَلَّآ إِنَّهَا تَذْكِرَةٌۭ
ہرگز نہیں، یہ تو ایک نصیحت ہے
فَمَن شَآءَ ذَكَرَهُۥ
جس کا جی چاہے اِسے قبول کرے
فِى صُحُفٍۢ مُّكَرَّمَةٍۢ
یہ ایسے صحیفوں میں درج ہے جو مکرم ہیں
مَّرْفُوعَةٍۢ مُّطَهَّرَةٍۭ
بلند مرتبہ ہیں، پاکیزہ ہیں
بِأَيْدِى سَفَرَةٍۢ
معزز اور نیک کاتبوں کے
كِرَامٍۭ بَرَرَةٍۢ
ہاتھوں میں رہتے ہیں
قُتِلَ ٱلْإِنسَٰنُ مَآ أَكْفَرَهُۥ
لعنت ہو انسان پر، کیسا سخت منکر حق ہے یہ
مِنْ أَىِّ شَىْءٍ خَلَقَهُۥ
کس چیز سے اللہ نے اِسے پیدا کیا ہے؟
مِن نُّطْفَةٍ خَلَقَهُۥ فَقَدَّرَهُۥ
نطفہ کی ایک بوند سے اللہ نے اِسے پیدا کیا، پھر اِس کی تقدیر مقرر کی
ثُمَّ ٱلسَّبِيلَ يَسَّرَهُۥ
پھر اِس کے لیے زندگی کی راہ آسان کی
ثُمَّ أَمَاتَهُۥ فَأَقْبَرَهُۥ
پھر اِسے موت دی اور قبر میں پہنچایا
ثُمَّ إِذَا شَآءَ أَنشَرَهُۥ
پھر جب چاہے وہ اِسے دوبارہ اٹھا کھڑا کرے
كَلَّا لَمَّا يَقْضِ مَآ أَمَرَهُۥ
ہرگز نہیں، اِس نے وہ فرض ادا نہیں کیا جس کا اللہ نے اِسے حکم دیا تھا
فَلْيَنظُرِ ٱلْإِنسَٰنُ إِلَىٰ طَعَامِهِۦٓ
پھر ذرا انسان اپنی خوراک کو دیکھے
أَنَّا صَبَبْنَا ٱلْمَآءَ صَبًّۭا
ہم نے خوب پانی لنڈھایا
ثُمَّ شَقَقْنَا ٱلْأَرْضَ شَقًّۭا
پھر زمین کو عجیب طرح پھاڑا
فَأَنۢبَتْنَا فِيهَا حَبًّۭا
پھر اُس کے اندر اگائے غلے
وَعِنَبًۭا وَقَضْبًۭا
اور انگور اور ترکاریاں
وَزَيْتُونًۭا وَنَخْلًۭا
اور زیتون اور کھجوریں
وَحَدَآئِقَ غُلْبًۭا
اور گھنے باغ
وَفَٰكِهَةًۭ وَأَبًّۭا
اور طرح طرح کے پھل، اور چارے
مَّتَٰعًۭا لَّكُمْ وَلِأَنْعَٰمِكُمْ
تمہارے لیے اور تمہارے مویشیوں کے لیے سامان زیست کے طور پر
فَإِذَا جَآءَتِ ٱلصَّآخَّةُ
آخرکار جب وہ کان بہرے کر دینے والی آواز بلند ہوگی
يَوْمَ يَفِرُّ ٱلْمَرْءُ مِنْ أَخِيهِ
اُس روز آدمی اپنے بھائی
وَأُمِّهِۦ وَأَبِيهِ
اور اپنی ماں اور اپنے باپ
وَصَٰحِبَتِهِۦ وَبَنِيهِ
اور اپنی بیوی اور اپنی اولاد سے بھاگے گا
لِكُلِّ ٱمْرِئٍۢ مِّنْهُمْ يَوْمَئِذٍۢ شَأْنٌۭ يُغْنِيهِ
ان میں سے ہر شخص پر اس دن ایسا وقت آ پڑے گا کہ اسے اپنے سوا کسی کا ہوش نہ ہوگا
وُجُوهٌۭ يَوْمَئِذٍۢ مُّسْفِرَةٌۭ
کچھ چہرے اُس روز دمک رہے ہوں گے
ضَاحِكَةٌۭ مُّسْتَبْشِرَةٌۭ
ہشاش بشاش اور خوش و خرم ہوں گے
وَوُجُوهٌۭ يَوْمَئِذٍ عَلَيْهَا غَبَرَةٌۭ
اور کچھ چہروں پر اس روز خاک اڑ رہی ہوگی
تَرْهَقُهَا قَتَرَةٌ
اور کلونس چھائی ہوئی ہوگی
أُو۟لَٰٓئِكَ هُمُ ٱلْكَفَرَةُ ٱلْفَجَرَةُ
یہی کافر و فاجر لوگ ہوں گے
Surah 81: At-Takwir — التكوير
إِذَا ٱلشَّمْسُ كُوِّرَتْ
جب سورج لپیٹ دیا جائے گا
وَإِذَا ٱلنُّجُومُ ٱنكَدَرَتْ
اور جب تارے بکھر جائیں گے
وَإِذَا ٱلْجِبَالُ سُيِّرَتْ
اور جب پہاڑ چلائے جائیں گے
وَإِذَا ٱلْعِشَارُ عُطِّلَتْ
اور جب دس مہینے کی حاملہ اونٹنیاں اپنے حال پر چھوڑ دی جائیں گی
وَإِذَا ٱلْوُحُوشُ حُشِرَتْ
اور جب جنگلی جانور سمیٹ کر اکٹھے کر دیے جائیں گے
وَإِذَا ٱلْبِحَارُ سُجِّرَتْ
اور جب سمندر بھڑکا دیے جائیں گے
وَإِذَا ٱلنُّفُوسُ زُوِّجَتْ
اور جب جانیں (جسموں سے) جوڑ دی جائیں گی
وَإِذَا ٱلْمَوْءُۥدَةُ سُئِلَتْ
اور جب زندہ گاڑی ہوئی لڑکی سے پوچھا جائے گا
بِأَىِّ ذَنۢبٍۢ قُتِلَتْ
کہ وہ کس قصور میں ماری گئی؟
وَإِذَا ٱلصُّحُفُ نُشِرَتْ
اور جب اعمال نامے کھولے جائیں گے
وَإِذَا ٱلسَّمَآءُ كُشِطَتْ
اور جب آسمان کا پردہ ہٹا دیا جائے گا
وَإِذَا ٱلْجَحِيمُ سُعِّرَتْ
اور جب جہنم دہکائی جائے گی
وَإِذَا ٱلْجَنَّةُ أُزْلِفَتْ
اور جب جنت قریب لے آئی جائے گی
عَلِمَتْ نَفْسٌۭ مَّآ أَحْضَرَتْ
اُس وقت ہر شخص کو معلوم ہو جائے گا کہ وہ کیا لے کر آیا ہے
فَلَآ أُقْسِمُ بِٱلْخُنَّسِ
پس نہیں، میں قسم کھاتا ہوں
ٱلْجَوَارِ ٱلْكُنَّسِ
پلٹنے اور چھپ جانے والے تاروں کی
وَٱلَّيْلِ إِذَا عَسْعَسَ
اور رات کی جبکہ وہ رخصت ہوئی
وَٱلصُّبْحِ إِذَا تَنَفَّسَ
اور صبح کی جبکہ اس نے سانس لیا
إِنَّهُۥ لَقَوْلُ رَسُولٍۢ كَرِيمٍۢ
یہ فی الواقع ایک بزرگ پیغام بر کا قول ہے
ذِى قُوَّةٍ عِندَ ذِى ٱلْعَرْشِ مَكِينٍۢ
جو بڑی توانائی رکھتا ہے، عرش والے کے ہاں بلند مرتبہ ہے
مُّطَاعٍۢ ثَمَّ أَمِينٍۢ
وہاں اُس کا حکم مانا جاتا ہے، وہ با اعتماد ہے
وَمَا صَاحِبُكُم بِمَجْنُونٍۢ
اور (اے اہل مکہ) تمہارا رفیق مجنون نہیں ہے
وَلَقَدْ رَءَاهُ بِٱلْأُفُقِ ٱلْمُبِينِ
اُس نے اُس پیغام بر کو روشن افق پر دیکھا ہے
وَمَا هُوَ عَلَى ٱلْغَيْبِ بِضَنِينٍۢ
اور وہ غیب (کے اِس علم کو لوگوں تک پہنچانے) کے معاملے میں بخیل نہیں ہے
وَمَا هُوَ بِقَوْلِ شَيْطَٰنٍۢ رَّجِيمٍۢ
اور یہ کسی شیطان مردود کا قول نہیں ہے
فَأَيْنَ تَذْهَبُونَ
پھر تم لوگ کدھر چلے جا رہے ہو؟
إِنْ هُوَ إِلَّا ذِكْرٌۭ لِّلْعَٰلَمِينَ
یہ تو سارے جہان والوں کے لیے ایک نصیحت ہے
لِمَن شَآءَ مِنكُمْ أَن يَسْتَقِيمَ
تم میں سے ہر اُس شخص کے لیے جو راہ راست پر چلنا چاہتا ہو
وَمَا تَشَآءُونَ إِلَّآ أَن يَشَآءَ ٱللَّهُ رَبُّ ٱلْعَٰلَمِينَ
اور تمہارے چاہنے سے کچھ نہیں ہوتا جب تک اللہ رب العالمین نہ چاہے
Surah 82: Al-Infitar — الإنفطار
إِذَا ٱلسَّمَآءُ ٱنفَطَرَتْ
جب آسمان پھٹ جائے گا
وَإِذَا ٱلْكَوَاكِبُ ٱنتَثَرَتْ
اور جب تارے بکھر جائیں گے
وَإِذَا ٱلْبِحَارُ فُجِّرَتْ
اور جب سمندر پھاڑ دیے جائیں گے
وَإِذَا ٱلْقُبُورُ بُعْثِرَتْ
اور جب قبریں کھول دی جائیں گی
عَلِمَتْ نَفْسٌۭ مَّا قَدَّمَتْ وَأَخَّرَتْ
اُس وقت ہر شخص کو اُس کا اگلا پچھلا سب کیا دھرا معلوم ہو جائے گا
يَٰٓأَيُّهَا ٱلْإِنسَٰنُ مَا غَرَّكَ بِرَبِّكَ ٱلْكَرِيمِ
اے انسان، کس چیز نے تجھے اپنے اُس رب کریم کی طرف سے دھوکے میں ڈال دیا
ٱلَّذِى خَلَقَكَ فَسَوَّىٰكَ فَعَدَلَكَ
جس نے تجھے پیدا کیا، تجھے نک سک سے درست کیا، تجھے متناسب بنایا
فِىٓ أَىِّ صُورَةٍۢ مَّا شَآءَ رَكَّبَكَ
اور جس صورت میں چاہا تجھ کو جوڑ کر تیار کیا؟
كَلَّا بَلْ تُكَذِّبُونَ بِٱلدِّينِ
ہرگز نہیں، بلکہ (اصل بات یہ ہے کہ) تم لوگ جزا و سزا کو جھٹلاتے ہو
وَإِنَّ عَلَيْكُمْ لَحَٰفِظِينَ
حالانکہ تم پر نگراں مقرر ہیں
كِرَامًۭا كَٰتِبِينَ
ایسے معزز کاتب
يَعْلَمُونَ مَا تَفْعَلُونَ
جو تمہارے ہر فعل کو جانتے ہیں
إِنَّ ٱلْأَبْرَارَ لَفِى نَعِيمٍۢ
یقیناً نیک لوگ مزے میں ہوں گے
وَإِنَّ ٱلْفُجَّارَ لَفِى جَحِيمٍۢ
اور بے شک بدکار لوگ جہنم میں جائیں گے
يَصْلَوْنَهَا يَوْمَ ٱلدِّينِ
جزا کے دن وہ اس میں داخل ہوں گے
وَمَا هُمْ عَنْهَا بِغَآئِبِينَ
اور اُس سے ہرگز غائب نہ ہو سکیں گے
وَمَآ أَدْرَىٰكَ مَا يَوْمُ ٱلدِّينِ
اور تم کیا جانتے ہو کہ وہ جزا کا دن کیا ہے؟
ثُمَّ مَآ أَدْرَىٰكَ مَا يَوْمُ ٱلدِّينِ
ہاں، تمہیں کیا خبر کہ وہ جزا کا دن کیا ہے؟
يَوْمَ لَا تَمْلِكُ نَفْسٌۭ لِّنَفْسٍۢ شَيْـًۭٔا ۖ وَٱلْأَمْرُ يَوْمَئِذٍۢ لِّلَّهِ
یہ وہ دن ہے جب کسی شخص کے لیے کچھ کرنا کسی کے بس میں نہ ہوگا، فیصلہ اُس دن بالکل اللہ کے اختیار میں ہوگا
Surah 83: Al-Mutaffifin — المطففين
وَيْلٌۭ لِّلْمُطَفِّفِينَ
تباہی ہے ڈنڈی مارنے والوں کے لیے
ٱلَّذِينَ إِذَا ٱكْتَالُوا۟ عَلَى ٱلنَّاسِ يَسْتَوْفُونَ
جن کا حال یہ ہے کہ جب لوگوں سے لیتے ہیں تو پورا پورا لیتے ہیں
وَإِذَا كَالُوهُمْ أَو وَّزَنُوهُمْ يُخْسِرُونَ
اور جب ان کو ناپ کر یا تول کر دیتے ہیں تو انہیں گھاٹا دیتے ہیں
أَلَا يَظُنُّ أُو۟لَٰٓئِكَ أَنَّهُم مَّبْعُوثُونَ
کیا یہ لوگ نہیں سمجھتے کہ ایک بڑے دن،
لِيَوْمٍ عَظِيمٍۢ
یہ اٹھا کر لائے جانے والے ہیں؟
يَوْمَ يَقُومُ ٱلنَّاسُ لِرَبِّ ٱلْعَٰلَمِينَ
اُس دن جبکہ سب لوگ رب العالمین کے سامنے کھڑے ہوں گے
كَلَّآ إِنَّ كِتَٰبَ ٱلْفُجَّارِ لَفِى سِجِّينٍۢ
ہرگز نہیں، یقیناً بد کاروں کا نامہ اعمال قید خانے کے دفتر میں ہے
وَمَآ أَدْرَىٰكَ مَا سِجِّينٌۭ
اور تمہیں کیا معلوم کہ وہ قید خانے کا دفتر کیا ہے؟
كِتَٰبٌۭ مَّرْقُومٌۭ
ایک کتاب ہے لکھی ہوئی
وَيْلٌۭ يَوْمَئِذٍۢ لِّلْمُكَذِّبِينَ
تباہی ہے اُس روز جھٹلانے والوں کے لیے
ٱلَّذِينَ يُكَذِّبُونَ بِيَوْمِ ٱلدِّينِ
جو روز جزا کو جھٹلاتے ہیں
وَمَا يُكَذِّبُ بِهِۦٓ إِلَّا كُلُّ مُعْتَدٍ أَثِيمٍ
اور اُسے نہیں جھٹلاتا مگر ہر وہ شخص جو حد سے گزر جانے والا بد عمل ہے
إِذَا تُتْلَىٰ عَلَيْهِ ءَايَٰتُنَا قَالَ أَسَٰطِيرُ ٱلْأَوَّلِينَ
اُسے جب ہماری آیات سنائی جاتی ہیں تو کہتا ہے یہ تو اگلے وقتوں کی کہانیاں ہیں
كَلَّا ۖ بَلْ ۜ رَانَ عَلَىٰ قُلُوبِهِم مَّا كَانُوا۟ يَكْسِبُونَ
ہرگز نہیں، بلکہ دراصل اِن لوگوں کے دلوں پر اِن کے برے اعمال کا زنگ چڑھ گیا ہے
كَلَّآ إِنَّهُمْ عَن رَّبِّهِمْ يَوْمَئِذٍۢ لَّمَحْجُوبُونَ
ہرگز نہیں، بالیقین اُس روز یہ اپنے رب کی دید سے محروم رکھے جائیں گے
ثُمَّ إِنَّهُمْ لَصَالُوا۟ ٱلْجَحِيمِ
پھر یہ جہنم میں جا پڑیں گے
ثُمَّ يُقَالُ هَٰذَا ٱلَّذِى كُنتُم بِهِۦ تُكَذِّبُونَ
پھر اِن سے کہا جائے گا کہ یہ وہی چیز ہے جسے تم جھٹلایا کرتے تھے
كَلَّآ إِنَّ كِتَٰبَ ٱلْأَبْرَارِ لَفِى عِلِّيِّينَ
ہرگز نہیں، بے شک نیک آدمیوں کا نامہ اعمال بلند پایہ لوگوں کے دفتر میں ہے
وَمَآ أَدْرَىٰكَ مَا عِلِّيُّونَ
اور تمہیں کیا خبر کہ کیا ہے وہ بلند پایہ لوگوں کا دفتر؟
كِتَٰبٌۭ مَّرْقُومٌۭ
ایک لکھی ہوئی کتاب ہے
يَشْهَدُهُ ٱلْمُقَرَّبُونَ
جس کی نگہداشت مقرب فرشتے کرتے ہیں
إِنَّ ٱلْأَبْرَارَ لَفِى نَعِيمٍ
بے شک نیک لوگ بڑے مزے میں ہوں گے
عَلَى ٱلْأَرَآئِكِ يَنظُرُونَ
اونچی مسندوں پر بیٹھے نظارے کر رہے ہوں گے
تَعْرِفُ فِى وُجُوهِهِمْ نَضْرَةَ ٱلنَّعِيمِ
ان کے چہروں پر تم خوشحالی کی رونق محسوس کرو گے
يُسْقَوْنَ مِن رَّحِيقٍۢ مَّخْتُومٍ
ان کو نفیس ترین سر بند شراب پلائی جائے گی جس پر مشک کی مہر لگی ہوگی
خِتَٰمُهُۥ مِسْكٌۭ ۚ وَفِى ذَٰلِكَ فَلْيَتَنَافَسِ ٱلْمُتَنَٰفِسُونَ
جو لوگ دوسروں پر بازی لے جانا چاہتے ہوں وہ اِس چیز کو حاصل کرنے میں بازی لے جانے کی کوشش کریں
وَمِزَاجُهُۥ مِن تَسْنِيمٍ
اُس شراب میں تسنیم کی آمیزش ہوگی
عَيْنًۭا يَشْرَبُ بِهَا ٱلْمُقَرَّبُونَ
یہ ایک چشمہ ہے جس کے پانی کے ساتھ مقرب لوگ شراب پئیں گے
إِنَّ ٱلَّذِينَ أَجْرَمُوا۟ كَانُوا۟ مِنَ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ يَضْحَكُونَ
مجرم لوگ دنیا میں ایمان لانے والوں کا مذاق اڑاتے تھے
وَإِذَا مَرُّوا۟ بِهِمْ يَتَغَامَزُونَ
جب اُن کے پاس سے گزرتے تو آنکھیں مار مار کر اُن کی طرف اشارے کرتے تھے
وَإِذَا ٱنقَلَبُوٓا۟ إِلَىٰٓ أَهْلِهِمُ ٱنقَلَبُوا۟ فَكِهِينَ
اپنے گھروں کی طرف پلٹتے تو مزے لیتے ہوئے پلٹتے تھے
وَإِذَا رَأَوْهُمْ قَالُوٓا۟ إِنَّ هَٰٓؤُلَآءِ لَضَآلُّونَ
اور جب انہیں دیکھتے تو کہتے تھے کہ یہ بہکے ہوئے لوگ ہیں
وَمَآ أُرْسِلُوا۟ عَلَيْهِمْ حَٰفِظِينَ
حالانکہ وہ اُن پر نگراں بنا کر نہیں بھیجے گئے تھے
فَٱلْيَوْمَ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ مِنَ ٱلْكُفَّارِ يَضْحَكُونَ
آج ایمان لانے والے کفار پر ہنس رہے ہیں
عَلَى ٱلْأَرَآئِكِ يَنظُرُونَ
مسندوں پر بیٹھے ہوئے ان کا حال دیکھ رہے ہیں
هَلْ ثُوِّبَ ٱلْكُفَّارُ مَا كَانُوا۟ يَفْعَلُونَ
مل گیا نا کافروں کو اُن حرکتوں کا ثواب جو وہ کیا کرتے تھے
Surah 84: Al-Inshiqaq — الإنشقاق
إِذَا ٱلسَّمَآءُ ٱنشَقَّتْ
جب آسمان پھٹ جائے گا
وَأَذِنَتْ لِرَبِّهَا وَحُقَّتْ
اور اپنے رب کے فرمان کی تعمیل کرے گا اور اُس کے لیے حق یہی ہے (کہ اپنے رب کا حکم مانے)
وَإِذَا ٱلْأَرْضُ مُدَّتْ
اور جب زمین پھیلا دی جائے گی
وَأَلْقَتْ مَا فِيهَا وَتَخَلَّتْ
اور جو کچھ اس کے اندر ہے اُسے باہر پھینک کر خالی ہو جائے گی
وَأَذِنَتْ لِرَبِّهَا وَحُقَّتْ
اور اپنے رب کے حکم کی تعمیل کرے گی اور اُس کے لیے حق یہی ہے (کہ اس کی تعمیل کرے)
يَٰٓأَيُّهَا ٱلْإِنسَٰنُ إِنَّكَ كَادِحٌ إِلَىٰ رَبِّكَ كَدْحًۭا فَمُلَٰقِيهِ
اے انسان، تو کشاں کشاں اپنے رب کی طرف چلا جا رہا ہے، اور اُس سے ملنے والا ہے
فَأَمَّا مَنْ أُوتِىَ كِتَٰبَهُۥ بِيَمِينِهِۦ
پھر جس کا نامہ اعمال اُس کے سیدھے ہاتھ میں دیا گیا
فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَابًۭا يَسِيرًۭا
اُس سے ہلکا حساب لیا جائے گا
وَيَنقَلِبُ إِلَىٰٓ أَهْلِهِۦ مَسْرُورًۭا
اور وہ اپنے لوگوں کی طرف خوش خوش پلٹے گا
وَأَمَّا مَنْ أُوتِىَ كِتَٰبَهُۥ وَرَآءَ ظَهْرِهِۦ
رہا وہ شخص جس کا نامہ اعمال اُس کی پیٹھ کے پیچھے دیا جائے گا
فَسَوْفَ يَدْعُوا۟ ثُبُورًۭا
تو وہ موت کو پکارے گا
وَيَصْلَىٰ سَعِيرًا
اور بھڑکتی ہوئی آگ میں جا پڑے گا
إِنَّهُۥ كَانَ فِىٓ أَهْلِهِۦ مَسْرُورًا
وہ اپنے گھر والوں میں مگن تھا
إِنَّهُۥ ظَنَّ أَن لَّن يَحُورَ
اُس نے سمجھا تھا کہ اسے کبھی پلٹنا نہیں ہے
بَلَىٰٓ إِنَّ رَبَّهُۥ كَانَ بِهِۦ بَصِيرًۭا
پلٹنا کیسے نہ تھا، اُس کا رب اُس کے کرتوت دیکھ رہا تھا
فَلَآ أُقْسِمُ بِٱلشَّفَقِ
پس نہیں، میں قسم کھاتا ہوں شفق کی
وَٱلَّيْلِ وَمَا وَسَقَ
اور رات کی اور جو کچھ وہ سمیٹ لیتی ہے
وَٱلْقَمَرِ إِذَا ٱتَّسَقَ
اور چاند کی جب کہ وہ ماہ کامل ہو جاتا ہے
لَتَرْكَبُنَّ طَبَقًا عَن طَبَقٍۢ
تم کو ضرور درجہ بدرجہ ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف گزرتے چلے جانا ہے
فَمَا لَهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ
پھر اِن لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ یہ ایمان نہیں لاتے
وَإِذَا قُرِئَ عَلَيْهِمُ ٱلْقُرْءَانُ لَا يَسْجُدُونَ ۩
اور جب قرآن اِن کے سامنے پڑھا جاتا ہے تو سجدہ نہیں کرتے؟
بَلِ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ يُكَذِّبُونَ
بلکہ یہ منکرین تو الٹا جھٹلاتے ہیں
وَٱللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا يُوعُونَ
حالانکہ جو کچھ یہ (اپنے نامہ اعمال میں) جمع کر رہے ہیں اللہ اُسے خوب جانتا ہے
فَبَشِّرْهُم بِعَذَابٍ أَلِيمٍ
لہٰذا اِن کو دردناک عذاب کی بشارت دے دو
إِلَّا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّٰلِحَٰتِ لَهُمْ أَجْرٌ غَيْرُ مَمْنُونٍۭ
البتہ جو لوگ ایمان لے آئے ہیں اور جنہوں نے نیک عمل کیے ہیں ان کے لیے کبھی ختم نہ ہونے والا اجر ہے
Surah 85: Al-Buruj — البروج
وَٱلسَّمَآءِ ذَاتِ ٱلْبُرُوجِ
قسم ہے مضبوط قلعوں والے آسمان کی
وَٱلْيَوْمِ ٱلْمَوْعُودِ
اور اُس دن کی جس کا وعدہ کیا گیا ہے
وَشَاهِدٍۢ وَمَشْهُودٍۢ
اور دیکھنے والے کی اور دیکھی جانے والی چیز کی
قُتِلَ أَصْحَٰبُ ٱلْأُخْدُودِ
کہ مارے گئے گڑھے والے
ٱلنَّارِ ذَاتِ ٱلْوَقُودِ
(اُس گڑھے والے) جس میں خوب بھڑکتے ہوئے ایندھن کی آگ تھی
إِذْ هُمْ عَلَيْهَا قُعُودٌۭ
جبکہ وہ اُس گڑھے کے کنارے بیٹھے ہوئے تھے
وَهُمْ عَلَىٰ مَا يَفْعَلُونَ بِٱلْمُؤْمِنِينَ شُهُودٌۭ
اور جو کچھ وہ ایمان لانے والوں کے ساتھ کر رہے تھے اُسے دیکھ رہے تھے
وَمَا نَقَمُوا۟ مِنْهُمْ إِلَّآ أَن يُؤْمِنُوا۟ بِٱللَّهِ ٱلْعَزِيزِ ٱلْحَمِيدِ
اور اُن اہل ایمان سے اُن کی دشمنی اِس کے سوا کسی وجہ سے نہ تھی کہ وہ اُس خدا پر ایمان لے آئے تھے جو زبردست اور اپنی ذات میں آپ محمود ہے
ٱلَّذِى لَهُۥ مُلْكُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ ۚ وَٱللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍۢ شَهِيدٌ
جو آسمانوں اور زمین کی سلطنت کا مالک ہے، اور وہ خدا سب کچھ دیکھ رہا ہے
إِنَّ ٱلَّذِينَ فَتَنُوا۟ ٱلْمُؤْمِنِينَ وَٱلْمُؤْمِنَٰتِ ثُمَّ لَمْ يَتُوبُوا۟ فَلَهُمْ عَذَابُ جَهَنَّمَ وَلَهُمْ عَذَابُ ٱلْحَرِيقِ
جن لوگوں نے مومن مردوں اور عورتوں پر ظلم و ستم توڑا اور پھر اس سے تائب نہ ہوئے، یقیناً اُن کے لیے جہنم کا عذاب ہے اور ان کے لیے جلائے جانے کی سزا ہے
إِنَّ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّٰلِحَٰتِ لَهُمْ جَنَّٰتٌۭ تَجْرِى مِن تَحْتِهَا ٱلْأَنْهَٰرُ ۚ ذَٰلِكَ ٱلْفَوْزُ ٱلْكَبِيرُ
جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کیے، یقیناً اُن کے لیے جنت کے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی، یہ ہے بڑی کامیابی
إِنَّ بَطْشَ رَبِّكَ لَشَدِيدٌ
درحقیقت تمہارے رب کی پکڑ بڑی سخت ہے
إِنَّهُۥ هُوَ يُبْدِئُ وَيُعِيدُ
وہی پہلی بار پیدا کرتا ہے اور وہی دوبارہ پیدا کرے گا
وَهُوَ ٱلْغَفُورُ ٱلْوَدُودُ
اور وہ بخشنے والا ہے، محبت کرنے والا ہے
ذُو ٱلْعَرْشِ ٱلْمَجِيدُ
عرش کا مالک ہے، بزرگ و برتر ہے
فَعَّالٌۭ لِّمَا يُرِيدُ
اور جو کچھ چاہے کر ڈالنے والا ہے
هَلْ أَتَىٰكَ حَدِيثُ ٱلْجُنُودِ
کیا تمہیں لشکروں کی خبر پہنچی ہے؟
فِرْعَوْنَ وَثَمُودَ
فرعون اور ثمود (کے لشکروں) کی؟
بَلِ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ فِى تَكْذِيبٍۢ
مگر جنہوں نے کفر کیا ہے وہ جھٹلانے میں لگے ہوئے ہیں
وَٱللَّهُ مِن وَرَآئِهِم مُّحِيطٌۢ
حالانکہ اللہ نے ان کو گھیرے میں لے رکھا ہے
بَلْ هُوَ قُرْءَانٌۭ مَّجِيدٌۭ
(اُن کے جھٹلانے سے اِس قرآن کا کچھ نہیں بگڑتا) بلکہ یہ قرآن بلند پایہ ہے
فِى لَوْحٍۢ مَّحْفُوظٍۭ
اُس لوح میں (نقش ہے) جو محفوظ ہے
Surah 86: At-Tariq — الطارق
وَٱلسَّمَآءِ وَٱلطَّارِقِ
قسم ہے آسمان کی اور رات کو نمودار ہونے والے کی
وَمَآ أَدْرَىٰكَ مَا ٱلطَّارِقُ
اور تم کیا جانو کہ وہ رات کو نمودار ہونے والا کیا ہے؟
ٱلنَّجْمُ ٱلثَّاقِبُ
چمکتا ہوا تارا
إِن كُلُّ نَفْسٍۢ لَّمَّا عَلَيْهَا حَافِظٌۭ
کوئی جان ایسی نہیں ہے جس کے اوپر کوئی نگہبان نہ ہو
فَلْيَنظُرِ ٱلْإِنسَٰنُ مِمَّ خُلِقَ
پھر ذرا انسان یہی دیکھ لے کہ وہ کس چیز سے پیدا کیا گیا ہے
خُلِقَ مِن مَّآءٍۢ دَافِقٍۢ
ایک اچھلنے والے پانی سے پیدا کیا گیا ہے
يَخْرُجُ مِنۢ بَيْنِ ٱلصُّلْبِ وَٱلتَّرَآئِبِ
جو پیٹھ اور سینے کی ہڈیوں کے درمیان سے نکلتا ہے
إِنَّهُۥ عَلَىٰ رَجْعِهِۦ لَقَادِرٌۭ
یقیناً وہ (خالق) اُسے دوبارہ پیدا کرنے پر قادر ہے
يَوْمَ تُبْلَى ٱلسَّرَآئِرُ
جس روز پوشیدہ اسرار کی جانچ پڑتال ہوگی
فَمَا لَهُۥ مِن قُوَّةٍۢ وَلَا نَاصِرٍۢ
اُس وقت انسان کے پاس نہ خود اپنا کوئی زور ہوگا اور نہ کوئی اس کی مدد کرنے والا ہوگا
وَٱلسَّمَآءِ ذَاتِ ٱلرَّجْعِ
قسم ہے بارش برسانے والے آسمان کی
وَٱلْأَرْضِ ذَاتِ ٱلصَّدْعِ
اور (نباتات اگتے وقت) پھٹ جانے والی زمین کی
إِنَّهُۥ لَقَوْلٌۭ فَصْلٌۭ
یہ ایک جچی تلی بات ہے
وَمَا هُوَ بِٱلْهَزْلِ
ہنسی مذاق نہیں ہے
إِنَّهُمْ يَكِيدُونَ كَيْدًۭا
یہ لوگ چالیں چل رہے ہیں
وَأَكِيدُ كَيْدًۭا
اور میں بھی ایک چال چل رہا ہوں
فَمَهِّلِ ٱلْكَٰفِرِينَ أَمْهِلْهُمْ رُوَيْدًۢا
پس چھوڑ دو اے نبیؐ، اِن کافروں کو اک ذرا کی ذرا اِن کے حال پر چھوڑ دو
Surah 87: Al-Ala — الأعلى
سَبِّحِ ٱسْمَ رَبِّكَ ٱلْأَعْلَى
(اے نبیؐ) اپنے رب برتر کے نام کی تسبیح کرو
ٱلَّذِى خَلَقَ فَسَوَّىٰ
جس نے پیدا کیا اور تناسب قائم کیا
وَٱلَّذِى قَدَّرَ فَهَدَىٰ
جس نے تقدیر بنائی پھر راہ دکھائی
وَٱلَّذِىٓ أَخْرَجَ ٱلْمَرْعَىٰ
جس نے نباتات اگائیں
فَجَعَلَهُۥ غُثَآءً أَحْوَىٰ
پھر اُن کو سیاہ کوڑا کرکٹ بنا دیا
سَنُقْرِئُكَ فَلَا تَنسَىٰٓ
ہم تمہیں پڑھوا دیں گے، پھر تم نہیں بھولو گے
إِلَّا مَا شَآءَ ٱللَّهُ ۚ إِنَّهُۥ يَعْلَمُ ٱلْجَهْرَ وَمَا يَخْفَىٰ
سوائے اُس کے جو اللہ چاہے، وہ ظاہر کو بھی جانتا ہے اور جو کچھ پوشیدہ ہے اُس کو بھی
وَنُيَسِّرُكَ لِلْيُسْرَىٰ
اور ہم تمہیں آسان طریقے کی سہولت دیتے ہیں
فَذَكِّرْ إِن نَّفَعَتِ ٱلذِّكْرَىٰ
لہٰذا تم نصیحت کرو اگر نصیحت نافع ہو
سَيَذَّكَّرُ مَن يَخْشَىٰ
جو شخص ڈرتا ہے وہ نصیحت قبول کر لے گا
وَيَتَجَنَّبُهَا ٱلْأَشْقَى
اور اس سے گریز کریگا وہ انتہائی بد بخت
ٱلَّذِى يَصْلَى ٱلنَّارَ ٱلْكُبْرَىٰ
جو بڑی آگ میں جائے گا
ثُمَّ لَا يَمُوتُ فِيهَا وَلَا يَحْيَىٰ
پھر نہ اس میں مرے گا نہ جیے گا
قَدْ أَفْلَحَ مَن تَزَكَّىٰ
فلاح پا گیا وہ جس نے پاکیزگی اختیار کی
وَذَكَرَ ٱسْمَ رَبِّهِۦ فَصَلَّىٰ
اور اپنے رب کا نام یاد کیا پھر نماز پڑھی
بَلْ تُؤْثِرُونَ ٱلْحَيَوٰةَ ٱلدُّنْيَا
مگر تم لوگ دنیا کی زندگی کو ترجیح دیتے ہو
وَٱلْءَاخِرَةُ خَيْرٌۭ وَأَبْقَىٰٓ
حالانکہ آخرت بہتر ہے اور باقی رہنے والی ہے
إِنَّ هَٰذَا لَفِى ٱلصُّحُفِ ٱلْأُولَىٰ
یہی بات پہلے آئے ہوئے صحیفوں میں بھی کہی گئی تھی
صُحُفِ إِبْرَٰهِيمَ وَمُوسَىٰ
ابراہیمؑ اور موسیٰؑ کے صحیفوں میں
Surah 88: Al-Ghashiyah — الغاشية
هَلْ أَتَىٰكَ حَدِيثُ ٱلْغَٰشِيَةِ
کیا تمہیں اُس چھا جانے والی آفت کی خبر پہنچی ہے؟
وُجُوهٌۭ يَوْمَئِذٍ خَٰشِعَةٌ
کچھ چہرے اُس روز خوف زدہ ہونگے
عَامِلَةٌۭ نَّاصِبَةٌۭ
سخت مشقت کر رہے ہونگے
تَصْلَىٰ نَارًا حَامِيَةًۭ
تھکے جاتے ہونگے، شدید آگ میں جھلس رہے ہونگے
تُسْقَىٰ مِنْ عَيْنٍ ءَانِيَةٍۢ
کھولتے ہوئے چشمے کا پانی انہیں پینے کو دیا جائے گا
لَّيْسَ لَهُمْ طَعَامٌ إِلَّا مِن ضَرِيعٍۢ
خار دار سوکھی گھاس کے سوا کوئی کھانا اُن کے لیے نہ ہوگا
لَّا يُسْمِنُ وَلَا يُغْنِى مِن جُوعٍۢ
جو نہ موٹا کرے نہ بھوک مٹائے
وُجُوهٌۭ يَوْمَئِذٍۢ نَّاعِمَةٌۭ
کچھ چہرے اُس روز با رونق ہوں گے
لِّسَعْيِهَا رَاضِيَةٌۭ
اپنی کار گزاری پر خوش ہونگے
فِى جَنَّةٍ عَالِيَةٍۢ
عالی مقام جنت میں ہوں گے
لَّا تَسْمَعُ فِيهَا لَٰغِيَةًۭ
کوئی بیہودہ بات وہاں نہ سنیں گے
فِيهَا عَيْنٌۭ جَارِيَةٌۭ
اُس میں چشمے رواں ہونگے
فِيهَا سُرُرٌۭ مَّرْفُوعَةٌۭ
اُس کے اندر اونچی مسندیں ہوں گی
وَأَكْوَابٌۭ مَّوْضُوعَةٌۭ
ساغر رکھے ہوئے ہوں گے
وَنَمَارِقُ مَصْفُوفَةٌۭ
گاؤ تکیوں کی قطاریں لگی ہوں گی
وَزَرَابِىُّ مَبْثُوثَةٌ
اور نفیس فرش بچھے ہوئے ہوں گے
أَفَلَا يَنظُرُونَ إِلَى ٱلْإِبِلِ كَيْفَ خُلِقَتْ
(یہ لوگ نہیں مانتے) تو کیا یہ اونٹوں کو نہیں دیکھتے کہ کیسے بنائے گئے؟
وَإِلَى ٱلسَّمَآءِ كَيْفَ رُفِعَتْ
آسمان کو نہیں دیکھتے کہ کیسے اٹھایا گیا؟
وَإِلَى ٱلْجِبَالِ كَيْفَ نُصِبَتْ
پہاڑوں کو نہیں دیکھتے کہ کیسے جمائے گئے؟
وَإِلَى ٱلْأَرْضِ كَيْفَ سُطِحَتْ
اور زمین کو نہیں دیکھتے کہ کیسے بچھائی گئی؟
فَذَكِّرْ إِنَّمَآ أَنتَ مُذَكِّرٌۭ
اچھا تو (اے نبیؐ) نصیحت کیے جاؤ، تم بس نصیحت ہی کرنے والے ہو
لَّسْتَ عَلَيْهِم بِمُصَيْطِرٍ
کچھ ان پر جبر کرنے والے نہیں ہو
إِلَّا مَن تَوَلَّىٰ وَكَفَرَ
البتہ جو شخص منہ موڑے گا اور انکار کرے گا
فَيُعَذِّبُهُ ٱللَّهُ ٱلْعَذَابَ ٱلْأَكْبَرَ
تو اللہ اس کو بھاری سزا دے گا
إِنَّ إِلَيْنَآ إِيَابَهُمْ
اِن لوگوں کو پلٹنا ہماری طرف ہی ہے
ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنَا حِسَابَهُم
پھر اِن کا حساب لینا ہمارے ہی ذمہ ہے
Surah 89: Al-Fajr — الفجر
وَٱلْفَجْرِ
قسم ہے فجر کی
وَلَيَالٍ عَشْرٍۢ
اور دس راتوں کی
وَٱلشَّفْعِ وَٱلْوَتْرِ
اور جفت اور طاق کی
وَٱلَّيْلِ إِذَا يَسْرِ
اور رات کی جبکہ وہ رخصت ہو رہی ہو
هَلْ فِى ذَٰلِكَ قَسَمٌۭ لِّذِى حِجْرٍ
کیا اِس میں کسی صاحب عقل کے لیے کوئی قسم ہے؟
أَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِعَادٍ
تم نے دیکھا نہیں کہ تمہارے رب نے کیا برتاؤ کیا
إِرَمَ ذَاتِ ٱلْعِمَادِ
اونچے ستونوں والے عاد ارم کے ساتھ
ٱلَّتِى لَمْ يُخْلَقْ مِثْلُهَا فِى ٱلْبِلَٰدِ
جن کے مانند کوئی قوم دنیا کے ملکوں میں پیدا نہیں کی گئی تھی؟
وَثَمُودَ ٱلَّذِينَ جَابُوا۟ ٱلصَّخْرَ بِٱلْوَادِ
اور ثمود کے ساتھ جنہوں نے وادی میں چٹانیں تراشی تھیں؟
وَفِرْعَوْنَ ذِى ٱلْأَوْتَادِ
اور میخوں والے فرعون کے ساتھ؟
ٱلَّذِينَ طَغَوْا۟ فِى ٱلْبِلَٰدِ
یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے دنیا کے ملکوں میں بڑی سرکشی کی تھی
فَأَكْثَرُوا۟ فِيهَا ٱلْفَسَادَ
اور ان میں بہت فساد پھیلایا تھا
فَصَبَّ عَلَيْهِمْ رَبُّكَ سَوْطَ عَذَابٍ
آخرکار تمہارے رب نے ان پر عذاب کا کوڑا برسا دیا
إِنَّ رَبَّكَ لَبِٱلْمِرْصَادِ
حقیقت یہ ہے کہ تمہارا رب گھات لگائے ہوئے ہے
فَأَمَّا ٱلْإِنسَٰنُ إِذَا مَا ٱبْتَلَىٰهُ رَبُّهُۥ فَأَكْرَمَهُۥ وَنَعَّمَهُۥ فَيَقُولُ رَبِّىٓ أَكْرَمَنِ
مگر انسان کا حال یہ ہے کہ اس کا رب جب اُس کو آزمائش میں ڈالتا ہے اور اُسے عزت اور نعمت دیتا ہے تو وہ کہتا ہے کہ میرے رب نے مجھے عزت دار بنا دیا
وَأَمَّآ إِذَا مَا ٱبْتَلَىٰهُ فَقَدَرَ عَلَيْهِ رِزْقَهُۥ فَيَقُولُ رَبِّىٓ أَهَٰنَنِ
اور جب وہ اُس کو آزمائش میں ڈالتا ہے اور اُس کا رزق اُس پر تنگ کر دیتا ہے تو وہ کہتا ہے کہ میرے رب نے مجھے ذلیل کر دیا
كَلَّا ۖ بَل لَّا تُكْرِمُونَ ٱلْيَتِيمَ
ہرگز نہیں، بلکہ تم یتیم سے عزت کا سلوک نہیں کرتے
وَلَا تَحَٰٓضُّونَ عَلَىٰ طَعَامِ ٱلْمِسْكِينِ
اور مسکین کو کھانا کھلانے پر ایک دوسرے کو نہیں اکساتے
وَتَأْكُلُونَ ٱلتُّرَاثَ أَكْلًۭا لَّمًّۭا
اور میراث کا سارا مال سمیٹ کر کھا جاتے ہو
وَتُحِبُّونَ ٱلْمَالَ حُبًّۭا جَمًّۭا
اور مال کی محبت میں بری طرح گرفتار ہو
كَلَّآ إِذَا دُكَّتِ ٱلْأَرْضُ دَكًّۭا دَكًّۭا
ہرگز نہیں، جب زمین پے در پے کوٹ کوٹ کر ریگ زار بنا دی جائے گی
وَجَآءَ رَبُّكَ وَٱلْمَلَكُ صَفًّۭا صَفًّۭا
اور تمہارا رب جلوہ فرما ہوگا اِس حال میں کہ فرشتے صف در صف کھڑے ہوں گے
وَجِا۟ىٓءَ يَوْمَئِذٍۭ بِجَهَنَّمَ ۚ يَوْمَئِذٍۢ يَتَذَكَّرُ ٱلْإِنسَٰنُ وَأَنَّىٰ لَهُ ٱلذِّكْرَىٰ
اور جہنم اُس روز سامنے لے آئی جائے گی، اُس دن انسان کو سمجھ آئے گی اور اس وقت اُس کے سمجھنے کا کیا حاصل؟
يَقُولُ يَٰلَيْتَنِى قَدَّمْتُ لِحَيَاتِى
وہ کہے گا کہ کاش میں نے اپنی اِس زندگی کے لیے کچھ پیشگی سامان کیا ہوتا!
فَيَوْمَئِذٍۢ لَّا يُعَذِّبُ عَذَابَهُۥٓ أَحَدٌۭ
پھر اُس دن اللہ جو عذاب دے گا ویسا عذاب دینے والا کوئی نہیں
وَلَا يُوثِقُ وَثَاقَهُۥٓ أَحَدٌۭ
اور اللہ جیسا باندھے گا ویسا باندھنے والا کوئی نہیں
يَٰٓأَيَّتُهَا ٱلنَّفْسُ ٱلْمُطْمَئِنَّةُ
(دوسری طرف ارشاد ہوگا) اے نفس مطمئن!
ٱرْجِعِىٓ إِلَىٰ رَبِّكِ رَاضِيَةًۭ مَّرْضِيَّةًۭ
چل اپنے رب کی طرف، اِس حال میں کہ تو (اپنے انجام نیک سے) خوش (اور اپنے رب کے نزدیک) پسندیدہ ہے
فَٱدْخُلِى فِى عِبَٰدِى
شامل ہو جا میرے (نیک) بندوں میں
وَٱدْخُلِى جَنَّتِى
اور داخل ہو جا میری جنت میں
Surah 90: Al-Balad — البلد
لَآ أُقْسِمُ بِهَٰذَا ٱلْبَلَدِ
نہیں، میں قسم کھاتا ہوں اِس شہر کی
وَأَنتَ حِلٌّۢ بِهَٰذَا ٱلْبَلَدِ
اور حال یہ ہے کہ (اے نبیؐ) اِس شہر میں تم کو حلال کر لیا گیا ہے
وَوَالِدٍۢ وَمَا وَلَدَ
اور قسم کھاتا ہوں باپ کی اور اس اولاد کی جو اس سے پیدا ہوئی
لَقَدْ خَلَقْنَا ٱلْإِنسَٰنَ فِى كَبَدٍ
درحقیقت ہم نے انسان کو مشقت میں پیدا کیا ہے
أَيَحْسَبُ أَن لَّن يَقْدِرَ عَلَيْهِ أَحَدٌۭ
کیا اُس نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ اُس پر کوئی قابو نہ پا سکے گا؟
يَقُولُ أَهْلَكْتُ مَالًۭا لُّبَدًا
کہتا ہے کہ میں نے ڈھیروں مال اڑا دیا
أَيَحْسَبُ أَن لَّمْ يَرَهُۥٓ أَحَدٌ
کیا وہ سمجھتا ہے کہ کسی نے اُس کو نہیں دیکھا؟
أَلَمْ نَجْعَل لَّهُۥ عَيْنَيْنِ
کیا ہم نے اُسے دو آنکھیں
وَلِسَانًۭا وَشَفَتَيْنِ
اور ایک زبان اور دو ہونٹ نہیں دیے؟
وَهَدَيْنَٰهُ ٱلنَّجْدَيْنِ
اور دونوں نمایاں راستے اُسے (نہیں) دکھا دیے؟
فَلَا ٱقْتَحَمَ ٱلْعَقَبَةَ
مگر اس نے دشوار گزار گھاٹی سے گزرنے کی ہمت نہ کی
وَمَآ أَدْرَىٰكَ مَا ٱلْعَقَبَةُ
اور تم کیا جانو کہ کیا ہے وہ دشوار گزار گھاٹی؟
فَكُّ رَقَبَةٍ
کسی گردن کو غلامی سے چھڑانا
أَوْ إِطْعَٰمٌۭ فِى يَوْمٍۢ ذِى مَسْغَبَةٍۢ
یا فاقے کے دن
يَتِيمًۭا ذَا مَقْرَبَةٍ
کسی قریبی یتیم
أَوْ مِسْكِينًۭا ذَا مَتْرَبَةٍۢ
یا خاک نشین مسکین کو کھانا کھلانا
ثُمَّ كَانَ مِنَ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَتَوَاصَوْا۟ بِٱلصَّبْرِ وَتَوَاصَوْا۟ بِٱلْمَرْحَمَةِ
پھر (اس کے ساتھ یہ کہ) آدمی اُن لوگوں میں شامل ہو جو ایمان لائے اور جنہوں نے ایک دوسرے کو صبر اور (خلق خدا پر) رحم کی تلقین کی
أُو۟لَٰٓئِكَ أَصْحَٰبُ ٱلْمَيْمَنَةِ
یہ لوگ ہیں دائیں بازو والے
وَٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ بِـَٔايَٰتِنَا هُمْ أَصْحَٰبُ ٱلْمَشْـَٔمَةِ
اور جنہوں نے ہماری آیات کو ماننے سے انکار کیا وہ بائیں بازو والے ہیں
عَلَيْهِمْ نَارٌۭ مُّؤْصَدَةٌۢ
ان پر آگ چھائی ہوئی ہوگی
Surah 91: Ash-Shams — الشمس
وَٱلشَّمْسِ وَضُحَىٰهَا
سورج اور اُس کی دھوپ کی قسم
وَٱلْقَمَرِ إِذَا تَلَىٰهَا
اور چاند کی قسم جبکہ وہ اُس کے پیچھے آتا ہے
وَٱلنَّهَارِ إِذَا جَلَّىٰهَا
اور دن کی قسم جبکہ وہ (سورج کو) نمایاں کر دیتا ہے
وَٱلَّيْلِ إِذَا يَغْشَىٰهَا
اور رات کی قسم جبکہ وہ (سورج کو) ڈھانک لیتی ہے
وَٱلسَّمَآءِ وَمَا بَنَىٰهَا
اور آسمان کی اور اُس ذات کی قسم جس نے اُسے قائم کیا
وَٱلْأَرْضِ وَمَا طَحَىٰهَا
اور زمین کی اور اُس ذات کی قسم جس نے اُسے بچھایا
وَنَفْسٍۢ وَمَا سَوَّىٰهَا
اور نفس انسانی کی اور اُس ذات کی قسم جس نے اُسے ہموار کیا
فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَىٰهَا
پھر اُس کی بدی اور اُس کی پرہیز گاری اس پر الہام کر دی
قَدْ أَفْلَحَ مَن زَكَّىٰهَا
یقیناً فلاح پا گیا وہ جس نے نفس کا تزکیہ کیا
وَقَدْ خَابَ مَن دَسَّىٰهَا
اور نامراد ہوا وہ جس نے اُس کو دبا دیا
كَذَّبَتْ ثَمُودُ بِطَغْوَىٰهَآ
ثمود نے اپنی سرکشی کی بنا پر جھٹلایا
إِذِ ٱنۢبَعَثَ أَشْقَىٰهَا
جب اُس قوم کا سب سے زیادہ شقی آدمی بپھر کر اٹھا
فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ ٱللَّهِ نَاقَةَ ٱللَّهِ وَسُقْيَٰهَا
تو اللہ کے رسول نے اُن لوگوں سے کہا کہ خبردار، اللہ کی اونٹنی کو (ہاتھ نہ لگانا) اوراُس کے پانی پینے (میں مانع نہ ہونا)
فَكَذَّبُوهُ فَعَقَرُوهَا فَدَمْدَمَ عَلَيْهِمْ رَبُّهُم بِذَنۢبِهِمْ فَسَوَّىٰهَا
مگر انہوں نے اُس کی بات کو جھوٹا قرار دیا اور اونٹنی کو مار ڈالا آخرکار اُن کے گناہ کی پاداش میں ان کے رب نے ان پر ایسی آفت توڑی کہ ایک ساتھ سب کو پیوند خاک کر دیا
وَلَا يَخَافُ عُقْبَٰهَا
اور اسے (اپنے ا س فعل کے) کسی برے نتیجے کا کوئی خوف نہیں ہے
Surah 92: Al-Lail — الليل
وَٱلَّيْلِ إِذَا يَغْشَىٰ
قسم ہے رات کی جبکہ وہ چھا جائے
وَٱلنَّهَارِ إِذَا تَجَلَّىٰ
اور دن کی جبکہ وہ روشن ہو
وَمَا خَلَقَ ٱلذَّكَرَ وَٱلْأُنثَىٰٓ
اور اُس ذات کی جس نے نر اور مادہ کو پیدا کیا
إِنَّ سَعْيَكُمْ لَشَتَّىٰ
درحقیقت تم لوگوں کی کوششیں مختلف قسم کی ہیں
فَأَمَّا مَنْ أَعْطَىٰ وَٱتَّقَىٰ
تو جس نے (راہ خدا میں) مال دیا اور (خدا کی نافرمانی سے) پرہیز کیا
وَصَدَّقَ بِٱلْحُسْنَىٰ
اور بھلائی کو سچ مانا
فَسَنُيَسِّرُهُۥ لِلْيُسْرَىٰ
اس کو ہم آسان راستے کے لیے سہولت دیں گے
وَأَمَّا مَنۢ بَخِلَ وَٱسْتَغْنَىٰ
اور جس نے بخل کیا اور (اپنے خدا سے) بے نیازی برتی
وَكَذَّبَ بِٱلْحُسْنَىٰ
اور بھلائی کو جھٹلایا
فَسَنُيَسِّرُهُۥ لِلْعُسْرَىٰ
اس کو ہم سخت راستے کے لیے سہولت دیں گے
وَمَا يُغْنِى عَنْهُ مَالُهُۥٓ إِذَا تَرَدَّىٰٓ
اور اُس کا مال آخر اُس کے کس کام آئے گا جبکہ وہ ہلاک ہو جائے؟
إِنَّ عَلَيْنَا لَلْهُدَىٰ
بے شک راستہ بتانا ہمارے ذمہ ہے
وَإِنَّ لَنَا لَلْءَاخِرَةَ وَٱلْأُولَىٰ
اور درحقیقت آخرت اور دنیا، دونوں کے ہم ہی مالک ہیں
فَأَنذَرْتُكُمْ نَارًۭا تَلَظَّىٰ
پس میں نے تم کو خبردار کر دیا ہے بھڑکتی ہوئی آگ سے
لَا يَصْلَىٰهَآ إِلَّا ٱلْأَشْقَى
اُس میں نہیں جھلسے گا مگر وہ انتہائی بد بخت
ٱلَّذِى كَذَّبَ وَتَوَلَّىٰ
جس نے جھٹلایا اور منہ پھیرا
وَسَيُجَنَّبُهَا ٱلْأَتْقَى
اور اُس سے دور رکھا جائیگا وہ نہایت پرہیزگار
ٱلَّذِى يُؤْتِى مَالَهُۥ يَتَزَكَّىٰ
جو پاکیزہ ہونے کی خاطر اپنا مال دیتا ہے
وَمَا لِأَحَدٍ عِندَهُۥ مِن نِّعْمَةٍۢ تُجْزَىٰٓ
اُس پر کسی کا کوئی احسان نہیں ہے جس کا بدلہ اُسے دینا ہو
إِلَّا ٱبْتِغَآءَ وَجْهِ رَبِّهِ ٱلْأَعْلَىٰ
وہ تو صرف اپنے رب برتر کی رضا جوئی کے لیے یہ کام کرتا ہے
وَلَسَوْفَ يَرْضَىٰ
اور ضرور وہ (اُس سے) خوش ہوگا
Surah 93: Ad-Duha — الضحى
وَٱلضُّحَىٰ
قسم ہے روز روشن کی
وَٱلَّيْلِ إِذَا سَجَىٰ
اور رات کی جبکہ وہ سکون کے ساتھ طاری ہو جائے
مَا وَدَّعَكَ رَبُّكَ وَمَا قَلَىٰ
(اے نبیؐ) تمہارے رب نے تم کو ہرگز نہیں چھوڑا اور نہ وہ ناراض ہوا
وَلَلْءَاخِرَةُ خَيْرٌۭ لَّكَ مِنَ ٱلْأُولَىٰ
اور یقیناً تمہارے لیے بعد کا دور پہلے دور سے بہتر ہے
وَلَسَوْفَ يُعْطِيكَ رَبُّكَ فَتَرْضَىٰٓ
اور عنقریب تمہارا رب تم کو اتنا دے گا کہ تم خوش ہو جاؤ گے
أَلَمْ يَجِدْكَ يَتِيمًۭا فَـَٔاوَىٰ
کیا اس نے تم کو یتیم نہیں پایا اور پھر ٹھکانا فراہم کیا؟
وَوَجَدَكَ ضَآلًّۭا فَهَدَىٰ
اور تمہیں ناواقف راہ پایا اور پھر ہدایت بخشی
وَوَجَدَكَ عَآئِلًۭا فَأَغْنَىٰ
اور تمہیں نادار پایا اور پھر مالدار کر دیا
فَأَمَّا ٱلْيَتِيمَ فَلَا تَقْهَرْ
لہٰذا یتیم پر سختی نہ کرو
وَأَمَّا ٱلسَّآئِلَ فَلَا تَنْهَرْ
اور سائل کو نہ جھڑکو
وَأَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثْ
اور اپنے رب کی نعمت کا اظہار کرو
Surah 94: Ash-Sharh — الشرح
أَلَمْ نَشْرَحْ لَكَ صَدْرَكَ
(اے نبیؐ) کیا ہم نے تمہارا سینہ تمہارے لیے کھول نہیں دیا؟
وَوَضَعْنَا عَنكَ وِزْرَكَ
اور تم پر سے وہ بھاری بوجھ اتار دیا
ٱلَّذِىٓ أَنقَضَ ظَهْرَكَ
جو تمہاری کمر توڑے ڈال رہا تھا
وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ
اور تمہاری خاطر تمہارے ذکر کا آوازہ بلند کر دیا
فَإِنَّ مَعَ ٱلْعُسْرِ يُسْرًا
پس حقیقت یہ ہے کہ تنگی کے ساتھ فراخی بھی ہے
إِنَّ مَعَ ٱلْعُسْرِ يُسْرًۭا
بے شک تنگی کے ساتھ فراخی بھی ہے
فَإِذَا فَرَغْتَ فَٱنصَبْ
لہٰذا جب تم فارغ ہو تو عبادت کی مشقت میں لگ جاؤ
وَإِلَىٰ رَبِّكَ فَٱرْغَب
اور اپنے رب ہی کی طرف راغب ہو
Surah 95: At-Tin — التين
وَٱلتِّينِ وَٱلزَّيْتُونِ
قسم ہے انجیر اور زیتون کی
وَطُورِ سِينِينَ
اور طور سینا کی
وَهَٰذَا ٱلْبَلَدِ ٱلْأَمِينِ
اور اِس پرامن شہر (مکہ) کی
لَقَدْ خَلَقْنَا ٱلْإِنسَٰنَ فِىٓ أَحْسَنِ تَقْوِيمٍۢ
ہم نے انسان کو بہترین ساخت پر پیدا کیا
ثُمَّ رَدَدْنَٰهُ أَسْفَلَ سَٰفِلِينَ
پھر اُسے الٹا پھیر کر ہم نے سب نیچوں سے نیچ کر دیا
إِلَّا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّٰلِحَٰتِ فَلَهُمْ أَجْرٌ غَيْرُ مَمْنُونٍۢ
سوائے اُن لوگوں کے جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے کہ ان کے لیے کبھی ختم نہ ہونے والا اجر ہے
فَمَا يُكَذِّبُكَ بَعْدُ بِٱلدِّينِ
پس (اے نبیؐ) اس کے بعد کون جزا و سزا کے معاملہ میں تم کو جھٹلا سکتا ہے؟
أَلَيْسَ ٱللَّهُ بِأَحْكَمِ ٱلْحَٰكِمِينَ
کیا اللہ سب حاکموں سے بڑا حاکم نہیں ہے؟
Surah 96: Al-Alaq — العلق
ٱقْرَأْ بِٱسْمِ رَبِّكَ ٱلَّذِى خَلَقَ
پڑھو (اے نبیؐ) اپنے رب کے نام کے ساتھ جس نے پیدا کیا
خَلَقَ ٱلْإِنسَٰنَ مِنْ عَلَقٍ
جمے ہوئے خون کے ایک لوتھڑے سے انسان کی تخلیق کی
ٱقْرَأْ وَرَبُّكَ ٱلْأَكْرَمُ
پڑھو، اور تمہارا رب بڑا کریم ہے
ٱلَّذِى عَلَّمَ بِٱلْقَلَمِ
جس نے قلم کے ذریعہ سے علم سکھایا
عَلَّمَ ٱلْإِنسَٰنَ مَا لَمْ يَعْلَمْ
انسان کو وہ علم دیا جسے وہ نہ جانتا تھا
كَلَّآ إِنَّ ٱلْإِنسَٰنَ لَيَطْغَىٰٓ
ہرگز نہیں، انسان سرکشی کرتا ہے
أَن رَّءَاهُ ٱسْتَغْنَىٰٓ
اِس بنا پر کہ وہ اپنے آپ کو بے نیاز دیکھتا ہے
إِنَّ إِلَىٰ رَبِّكَ ٱلرُّجْعَىٰٓ
پلٹنا یقیناً تیرے رب ہی کی طرف ہے
أَرَءَيْتَ ٱلَّذِى يَنْهَىٰ
تم نے دیکھا اُس شخص کو
عَبْدًا إِذَا صَلَّىٰٓ
جو ایک بندے کو منع کرتا ہے جبکہ وہ نماز پڑھتا ہو؟
أَرَءَيْتَ إِن كَانَ عَلَى ٱلْهُدَىٰٓ
تمہارا کیا خیال ہے اگر (وہ بندہ) راہ راست پر ہو
أَوْ أَمَرَ بِٱلتَّقْوَىٰٓ
یا پرہیزگاری کی تلقین کرتا ہو؟
أَرَءَيْتَ إِن كَذَّبَ وَتَوَلَّىٰٓ
تمہارا کیا خیال ہے اگر (یہ منع کرنے والا شخص حق کو) جھٹلاتا اور منہ موڑتا ہو؟
أَلَمْ يَعْلَم بِأَنَّ ٱللَّهَ يَرَىٰ
کیا وہ نہیں جانتا کہ اللہ دیکھ رہا ہے؟
كَلَّا لَئِن لَّمْ يَنتَهِ لَنَسْفَعًۢا بِٱلنَّاصِيَةِ
ہرگز نہیں، اگر وہ باز نہ آیا تو ہم اس کی پیشانی کے بال پکڑ کر اسے کھینچیں گے
نَاصِيَةٍۢ كَٰذِبَةٍ خَاطِئَةٍۢ
اُس پیشانی کو جو جھوٹی اور سخت خطا کار ہے
فَلْيَدْعُ نَادِيَهُۥ
وہ بلا لے اپنے حامیوں کی ٹولی کو
سَنَدْعُ ٱلزَّبَانِيَةَ
ہم بھی عذاب کے فرشتوں کو بلا لیں گے
كَلَّا لَا تُطِعْهُ وَٱسْجُدْ وَٱقْتَرِب ۩
ہرگز نہیں، اُس کی بات نہ مانو اور سجدہ کرو اور (اپنے رب کا) قرب حاصل کرو
Surah 97: Al-Qadr — القدر
إِنَّآ أَنزَلْنَٰهُ فِى لَيْلَةِ ٱلْقَدْرِ
ہم نے اِس (قرآن) کو شب قدر میں نازل کیا ہے
وَمَآ أَدْرَىٰكَ مَا لَيْلَةُ ٱلْقَدْرِ
اور تم کیا جانو کہ شب قدر کیا ہے؟
لَيْلَةُ ٱلْقَدْرِ خَيْرٌۭ مِّنْ أَلْفِ شَهْرٍۢ
شب قدر ہزار مہینوں سے زیادہ بہتر ہے
تَنَزَّلُ ٱلْمَلَٰٓئِكَةُ وَٱلرُّوحُ فِيهَا بِإِذْنِ رَبِّهِم مِّن كُلِّ أَمْرٍۢ
فرشتے اور روح اُس میں اپنے رب کے اذن سے ہر حکم لے کر اترتے ہیں
سَلَٰمٌ هِىَ حَتَّىٰ مَطْلَعِ ٱلْفَجْرِ
وہ رات سراسر سلامتی ہے طلوع فجر تک
Surah 98: Al-Bayinah — البينة
لَمْ يَكُنِ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ مِنْ أَهْلِ ٱلْكِتَٰبِ وَٱلْمُشْرِكِينَ مُنفَكِّينَ حَتَّىٰ تَأْتِيَهُمُ ٱلْبَيِّنَةُ
اہل کتاب اور مشرکین میں سے جو لوگ کافر تھے (وہ اپنے کفر سے) باز آنے والے نہ تھے جب تک کہ ان کے پاس دلیل روشن نہ آ جائے
رَسُولٌۭ مِّنَ ٱللَّهِ يَتْلُوا۟ صُحُفًۭا مُّطَهَّرَةًۭ
(یعنی) اللہ کی طرف سے ایک رسول جو پاک صحیفے پڑھ کر سنائے
فِيهَا كُتُبٌۭ قَيِّمَةٌۭ
جن میں بالکل راست اور درست تحریریں لکھی ہوئی ہوں
وَمَا تَفَرَّقَ ٱلَّذِينَ أُوتُوا۟ ٱلْكِتَٰبَ إِلَّا مِنۢ بَعْدِ مَا جَآءَتْهُمُ ٱلْبَيِّنَةُ
پہلے جن لوگوں کو کتاب دی گئی تھی اُن میں تفرقہ برپا نہیں ہوا مگر اِس کے بعد کہ اُن کے پاس (راہ راست) کا بیان واضح آ چکا تھا
وَمَآ أُمِرُوٓا۟ إِلَّا لِيَعْبُدُوا۟ ٱللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ ٱلدِّينَ حُنَفَآءَ وَيُقِيمُوا۟ ٱلصَّلَوٰةَ وَيُؤْتُوا۟ ٱلزَّكَوٰةَ ۚ وَذَٰلِكَ دِينُ ٱلْقَيِّمَةِ
اور اُن کو اِس کے سوا کوئی علم نہیں دیا گیا تھا کہ اللہ کی بندگی کریں اپنے دین کو اُس کے لیے خالص کر کے، بالکل یکسو ہو کر، اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں یہی نہایت صحیح و درست دین ہے
إِنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ مِنْ أَهْلِ ٱلْكِتَٰبِ وَٱلْمُشْرِكِينَ فِى نَارِ جَهَنَّمَ خَٰلِدِينَ فِيهَآ ۚ أُو۟لَٰٓئِكَ هُمْ شَرُّ ٱلْبَرِيَّةِ
اہل کتاب اور مشرکین میں سے جن لوگوں نے کفر کیا ہے وہ یقیناً جہنم کی آگ میں جائیں گے اور ہمیشہ اس میں رہیں گے، یہ لوگ بد ترین خلائق ہیں
إِنَّ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّٰلِحَٰتِ أُو۟لَٰٓئِكَ هُمْ خَيْرُ ٱلْبَرِيَّةِ
جو لوگ ایمان لے آئے اور جنہوں نے نیک عمل کیے، وہ یقیناً بہترین خلائق ہیں
جَزَآؤُهُمْ عِندَ رَبِّهِمْ جَنَّٰتُ عَدْنٍۢ تَجْرِى مِن تَحْتِهَا ٱلْأَنْهَٰرُ خَٰلِدِينَ فِيهَآ أَبَدًۭا ۖ رَّضِىَ ٱللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا۟ عَنْهُ ۚ ذَٰلِكَ لِمَنْ خَشِىَ رَبَّهُۥ
اُن کی جزا اُن کے رب کے ہاں دائمی قیام کی جنتیں ہیں جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہوں گی، وہ ان میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے یہ کچھ ہے اُس شخص کے لیے جس نے اپنے رب کا خوف کیا ہو
Surah 99: Az-Zalzalah — الزلزلة
إِذَا زُلْزِلَتِ ٱلْأَرْضُ زِلْزَالَهَا
جب زمین اپنی پوری شدت کے ساتھ ہلا ڈالی جائے گی
وَأَخْرَجَتِ ٱلْأَرْضُ أَثْقَالَهَا
اور زمین اپنے اندر کے سارے بوجھ نکال کر باہر ڈال دے گی
وَقَالَ ٱلْإِنسَٰنُ مَا لَهَا
اور انسان کہے گا کہ یہ اِس کو کیا ہو رہا ہے
يَوْمَئِذٍۢ تُحَدِّثُ أَخْبَارَهَا
اُس روز وہ اپنے (اوپر گزرے ہوئے) حالات بیان کرے گی
بِأَنَّ رَبَّكَ أَوْحَىٰ لَهَا
کیونکہ تیرے رب نے اُسے (ایساکرنے کا) حکم دیا ہوگا
يَوْمَئِذٍۢ يَصْدُرُ ٱلنَّاسُ أَشْتَاتًۭا لِّيُرَوْا۟ أَعْمَٰلَهُمْ
اُس روز لوگ متفرق حالت میں پلٹیں گے تاکہ اُن کے اعمال اُن کو دکھائے جائیں
فَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًۭا يَرَهُۥ
پھر جس نے ذرہ برابر نیکی کی ہوگی وہ اس کو دیکھ لے گا
وَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍۢ شَرًّۭا يَرَهُۥ
اور جس نے ذرہ برابر بدی کی ہوگی وہ اس کو دیکھ لے گا
Surah 100: Al-Adiyat — العاديات
وَٱلْعَٰدِيَٰتِ ضَبْحًۭا
قسم ہے اُن (گھوڑوں) کی جو پھنکارے مارتے ہوئے دوڑتے ہیں
فَٱلْمُورِيَٰتِ قَدْحًۭا
پھر (اپنی ٹاپوں سے) چنگاریاں جھاڑتے ہیں
فَٱلْمُغِيرَٰتِ صُبْحًۭا
پھر صبح سویرے چھاپہ مارتے ہیں
فَأَثَرْنَ بِهِۦ نَقْعًۭا
پھر اس موقع پر گرد و غبار اڑاتے ہیں
فَوَسَطْنَ بِهِۦ جَمْعًا
پھر اِسی حالت میں کسی مجمع کے اندر جا گھستے ہیں
إِنَّ ٱلْإِنسَٰنَ لِرَبِّهِۦ لَكَنُودٌۭ
حقیقت یہ ہے کہ انسان اپنے رب کا بڑا ناشکرا ہے
وَإِنَّهُۥ عَلَىٰ ذَٰلِكَ لَشَهِيدٌۭ
اور وہ خود اِس پر گواہ ہے
وَإِنَّهُۥ لِحُبِّ ٱلْخَيْرِ لَشَدِيدٌ
اور وہ مال و دولت کی محبت میں بری طرح مبتلا ہے
۞ أَفَلَا يَعْلَمُ إِذَا بُعْثِرَ مَا فِى ٱلْقُبُورِ
تو کیا وہ اُس حقیقت کو نہیں جانتا جب قبروں میں جو کچھ (مدفون) ہے اُسے نکال لیا جائے گا
وَحُصِّلَ مَا فِى ٱلصُّدُورِ
اور سینوں میں جو کچھ (مخفی) ہے اُسے برآمد کر کے اس کی جانچ پڑتال کی جائے گی؟
إِنَّ رَبَّهُم بِهِمْ يَوْمَئِذٍۢ لَّخَبِيرٌۢ
یقیناً اُن کا رب اُس روز اُن سے خوب باخبر ہوگا
Surah 101: Al-Qariah — القارعة
ٱلْقَارِعَةُ
عظیم حادثہ!
مَا ٱلْقَارِعَةُ
کیا ہے وہ عظیم حادثہ؟
وَمَآ أَدْرَىٰكَ مَا ٱلْقَارِعَةُ
تم کیا جانو کہ وہ عظیم حادثہ کیا ہے؟
يَوْمَ يَكُونُ ٱلنَّاسُ كَٱلْفَرَاشِ ٱلْمَبْثُوثِ
وہ دن جب لوگ بکھرے ہوئے پروانوں کی طرح
وَتَكُونُ ٱلْجِبَالُ كَٱلْعِهْنِ ٱلْمَنفُوشِ
اور پہاڑ رنگ برنگ کے دھنکے ہوئے اون کی طرح ہوں گے
فَأَمَّا مَن ثَقُلَتْ مَوَٰزِينُهُۥ
پھر جس کے پلڑے بھاری ہوں گے
فَهُوَ فِى عِيشَةٍۢ رَّاضِيَةٍۢ
وہ دل پسند عیش میں ہوگا
وَأَمَّا مَنْ خَفَّتْ مَوَٰزِينُهُۥ
اور جس کے پلڑے ہلکے ہوں گے
فَأُمُّهُۥ هَاوِيَةٌۭ
اس کی جائے قرار گہری کھائی ہوگی
وَمَآ أَدْرَىٰكَ مَا هِيَهْ
اور تمہیں کیا خبر کہ وہ کیا چیز ہے؟
نَارٌ حَامِيَةٌۢ
بھڑکتی ہوئی آگ
Surah 102: Al-Takathur — التكاثر
أَلْهَىٰكُمُ ٱلتَّكَاثُرُ
تم لوگوں کو زیادہ سے زیادہ اور ایک دوسرے سے بڑھ کر دنیا حاصل کرنے کی دھن نے غفلت میں ڈال رکھا ہے
حَتَّىٰ زُرْتُمُ ٱلْمَقَابِرَ
یہاں تک کہ (اسی فکر میں) تم لب گور تک پہنچ جاتے ہو
كَلَّا سَوْفَ تَعْلَمُونَ
ہرگز نہیں، عنقریب تم کو معلوم ہو جائے گا
ثُمَّ كَلَّا سَوْفَ تَعْلَمُونَ
پھر (سن لو کہ) ہرگز نہیں، عنقریب تم کو معلوم ہو جائے گا
كَلَّا لَوْ تَعْلَمُونَ عِلْمَ ٱلْيَقِينِ
ہرگز نہیں، اگر تم یقینی علم کی حیثیت سے (اِس روش کے انجام کو) جانتے ہوتے (تو تمہارا یہ طرز عمل نہ ہوتا)
لَتَرَوُنَّ ٱلْجَحِيمَ
تم دوزخ دیکھ کر رہو گے
ثُمَّ لَتَرَوُنَّهَا عَيْنَ ٱلْيَقِينِ
پھر (سن لو کہ) تم بالکل یقین کے ساتھ اُسے دیکھ لو گے
ثُمَّ لَتُسْـَٔلُنَّ يَوْمَئِذٍ عَنِ ٱلنَّعِيمِ
پھر ضرور اُس روز تم سے اِن نعمتوں کے بارے میں جواب طلبی کی جائے گی
Surah 103: Al-Asr — العصر
وَٱلْعَصْرِ
زمانے کی قسم
إِنَّ ٱلْإِنسَٰنَ لَفِى خُسْرٍ
انسان درحقیقت بڑے خسارے میں ہے
إِلَّا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّٰلِحَٰتِ وَتَوَاصَوْا۟ بِٱلْحَقِّ وَتَوَاصَوْا۟ بِٱلصَّبْرِ
سوائے اُن لوگوں کے جو ایمان لائے، اور نیک اعمال کرتے رہے، اور ایک دوسرے کو حق کی نصیحت اور صبر کی تلقین کرتے رہے
Surah 104: Al-Humazah — الهمزة
وَيْلٌۭ لِّكُلِّ هُمَزَةٍۢ لُّمَزَةٍ
تباہی ہے ہر اُس شخص کے لیے جو (منہ در منہ) لوگوں پر طعن اور (پیٹھ پیچھے) برائیاں کرنے کا خوگر ہے
ٱلَّذِى جَمَعَ مَالًۭا وَعَدَّدَهُۥ
جس نے مال جمع کیا اور اُسے گن گن کر رکھا
يَحْسَبُ أَنَّ مَالَهُۥٓ أَخْلَدَهُۥ
وہ سمجھتا ہے کہ اُس کا مال ہمیشہ اُس کے پاس رہے گا
كَلَّا ۖ لَيُنۢبَذَنَّ فِى ٱلْحُطَمَةِ
ہرگز نہیں، وہ شخص تو چکنا چور کر دینے والی جگہ میں پھینک دیا جائے گا
وَمَآ أَدْرَىٰكَ مَا ٱلْحُطَمَةُ
اور تم کیا جانو کہ کیا ہے وہ چکنا چور کر دینے والی جگہ؟
نَارُ ٱللَّهِ ٱلْمُوقَدَةُ
اللہ کی آگ، خوب بھڑکائی ہوئی
ٱلَّتِى تَطَّلِعُ عَلَى ٱلْأَفْـِٔدَةِ
جو دلوں تک پہنچے گی
إِنَّهَا عَلَيْهِم مُّؤْصَدَةٌۭ
وہ اُن پر ڈھانک کر بند کر دی جائے گی
فِى عَمَدٍۢ مُّمَدَّدَةٍۭ
(اِس حالت میں کہ وہ) اونچے اونچے ستونوں میں (گھرے ہوئے ہوں گے)
Surah 105: Al-Fil — الفيل
أَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِأَصْحَٰبِ ٱلْفِيلِ
تم نے دیکھا نہیں کہ تمہارے رب نے ہاتھی والوں کے ساتھ کیا کیا؟
أَلَمْ يَجْعَلْ كَيْدَهُمْ فِى تَضْلِيلٍۢ
کیا اُس نے اُن کی تدبیر کو اکارت نہیں کر دیا؟
وَأَرْسَلَ عَلَيْهِمْ طَيْرًا أَبَابِيلَ
اور اُن پر پرندوں کے جھنڈ کے جھنڈ بھیج دیے
تَرْمِيهِم بِحِجَارَةٍۢ مِّن سِجِّيلٍۢ
جو اُن پر پکی ہوئی مٹی کے پتھر پھینک رہے تھے
فَجَعَلَهُمْ كَعَصْفٍۢ مَّأْكُولٍۭ
پھر اُن کا یہ حال کر دیا جیسے جانوروں کا کھایا ہوا بھوسا
Surah 106: Quraish — قريش
لِإِيلَٰفِ قُرَيْشٍ
چونکہ قریش مانوس ہوئے
إِۦلَٰفِهِمْ رِحْلَةَ ٱلشِّتَآءِ وَٱلصَّيْفِ
(یعنی) جاڑے اور گرمی کے سفروں سے مانوس
فَلْيَعْبُدُوا۟ رَبَّ هَٰذَا ٱلْبَيْتِ
لہٰذا اُن کو چاہیے کہ اِس گھر کے رب کی عبادت کریں
ٱلَّذِىٓ أَطْعَمَهُم مِّن جُوعٍۢ وَءَامَنَهُم مِّنْ خَوْفٍۭ
جس نے اُنہیں بھوک سے بچا کر کھانے کو دیا اور خوف سے بچا کر امن عطا کیا
Surah 107: Al-Ma'un — الماعون
أَرَءَيْتَ ٱلَّذِى يُكَذِّبُ بِٱلدِّينِ
تم نے دیکھا اُس شخص کو جو آخرت کی جزا و سزا کو جھٹلاتا ہے؟
فَذَٰلِكَ ٱلَّذِى يَدُعُّ ٱلْيَتِيمَ
وہی تو ہے جو یتیم کو دھکے دیتا ہے
وَلَا يَحُضُّ عَلَىٰ طَعَامِ ٱلْمِسْكِينِ
اور مسکین کو کھانا دینے پر نہیں اکساتا
فَوَيْلٌۭ لِّلْمُصَلِّينَ
پھر تباہی ہے اُن نماز پڑھنے والوں کے لیے
ٱلَّذِينَ هُمْ عَن صَلَاتِهِمْ سَاهُونَ
جو اپنی نماز سے غفلت برتتے ہیں
ٱلَّذِينَ هُمْ يُرَآءُونَ
جو ریا کاری کرتے ہیں
وَيَمْنَعُونَ ٱلْمَاعُونَ
اور معمولی ضرورت کی چیزیں (لوگوں کو) دینے سے گریز کرتے ہیں
Surah 108: Al-Kauthar — الكوثر
إِنَّآ أَعْطَيْنَٰكَ ٱلْكَوْثَرَ
(اے نبیؐ) ہم نے تمہیں کوثر عطا کر دیا
فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَٱنْحَرْ
پس تم اپنے رب ہی کے لیے نماز پڑھو اور قربانی کرو
إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ ٱلْأَبْتَرُ
تمہارا دشمن ہی جڑ کٹا ہے
Surah 109: Al-Kafirun — الكافرون
قُلْ يَٰٓأَيُّهَا ٱلْكَٰفِرُونَ
کہہ دو کہ اے کافرو
لَآ أَعْبُدُ مَا تَعْبُدُونَ
میں اُن کی عبادت نہیں کرتا جن کی عبادت تم کرتے ہو
وَلَآ أَنتُمْ عَٰبِدُونَ مَآ أَعْبُدُ
اور نہ تم اُس کی عبادت کرنے والے ہو جس کی عبادت میں کرتا ہوں
وَلَآ أَنَا۠ عَابِدٌۭ مَّا عَبَدتُّمْ
اور نہ میں اُن کی عبادت کرنے والا ہوں جن کی عبادت تم نے کی ہے
وَلَآ أَنتُمْ عَٰبِدُونَ مَآ أَعْبُدُ
اور نہ تم اُس کی عبادت کرنے والے ہو جس کی عبادت میں کرتا ہوں
لَكُمْ دِينُكُمْ وَلِىَ دِينِ
تمہارے لیے تمہارا دین ہے اور میرے لیے میرا دین
Surah 110: An-Nasr — النصر
إِذَا جَآءَ نَصْرُ ٱللَّهِ وَٱلْفَتْحُ
جب اللہ کی مدد آ جائے اور فتح نصیب ہو جائے
وَرَأَيْتَ ٱلنَّاسَ يَدْخُلُونَ فِى دِينِ ٱللَّهِ أَفْوَاجًۭا
اور (اے نبیؐ) تم دیکھ لو کہ لوگ فوج در فوج اللہ کے دین میں داخل ہو رہے ہیں
فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَٱسْتَغْفِرْهُ ۚ إِنَّهُۥ كَانَ تَوَّابًۢا
تو اپنے رب کی حمد کے ساتھ اُس کی تسبیح کرو، اور اُس سے مغفرت کی دعا مانگو، بے شک وہ بڑا توبہ قبول کرنے والا ہے
Surah 111: Al-Masad — المسد
تَبَّتْ يَدَآ أَبِى لَهَبٍۢ وَتَبَّ
ٹوٹ گئے ابولہب کے ہاتھ اور نامراد ہو گیا وہ
مَآ أَغْنَىٰ عَنْهُ مَالُهُۥ وَمَا كَسَبَ
اُس کا مال اور جو کچھ اس نے کمایا وہ اُس کے کسی کام نہ آیا
سَيَصْلَىٰ نَارًۭا ذَاتَ لَهَبٍۢ
ضرور وہ شعلہ زن آگ میں ڈالا جائے گا
وَٱمْرَأَتُهُۥ حَمَّالَةَ ٱلْحَطَبِ
اور (اُس کے ساتھ) اُس کی جورو بھی، لگائی بجھائی کرنے والی
فِى جِيدِهَا حَبْلٌۭ مِّن مَّسَدٍۭ
اُس کی گردن میں مونجھ کی رسی ہوگی
Surah 112: Al-Ikhlas — الإخلاص
قُلْ هُوَ ٱللَّهُ أَحَدٌ
کہو، وہ اللہ ہے، یکتا
ٱللَّهُ ٱلصَّمَدُ
اللہ سب سے بے نیاز ہے اور سب اس کے محتاج ہیں
لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ
نہ اس کی کوئی اولاد ہے اور نہ وہ کسی کی اولاد
وَلَمْ يَكُن لَّهُۥ كُفُوًا أَحَدٌۢ
اور کوئی اس کا ہمسر نہیں ہے
Surah 113: Al-Falaq — الفلق
قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ ٱلْفَلَقِ
کہو، میں پناہ مانگتا ہوں صبح کے رب کی
مِن شَرِّ مَا خَلَقَ
ہر اُس چیز کے شر سے جو اُس نے پیدا کی ہے
وَمِن شَرِّ غَاسِقٍ إِذَا وَقَبَ
اور رات کی تاریکی کے شر سے جب کہ وہ چھا جائے
وَمِن شَرِّ ٱلنَّفَّٰثَٰتِ فِى ٱلْعُقَدِ
اور گرہوں میں پھونکنے والوں (یا والیوں) کے شر سے
وَمِن شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَ
اور حاسد کے شر سے جب کہ وہ حسد کرے
Surah 114: An-Nas — الناس
قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ ٱلنَّاسِ
کہو، میں پناہ مانگتا ہوں انسانوں کے رب
مَلِكِ ٱلنَّاسِ
انسانوں کے بادشاہ
إِلَٰهِ ٱلنَّاسِ
انسانوں کے حقیقی معبود کی
مِن شَرِّ ٱلْوَسْوَاسِ ٱلْخَنَّاسِ
اُس وسوسہ ڈالنے والے کے شر سے جو بار بار پلٹ کر آتا ہے
ٱلَّذِى يُوَسْوِسُ فِى صُدُورِ ٱلنَّاسِ
جو لوگوں کے دلوں میں وسوسے ڈالتا ہے
مِنَ ٱلْجِنَّةِ وَٱلنَّاسِ
خواہ وہ جنوں میں سے ہو یا انسانوں میں سے