Surah 51: Az-Zariyat — الذاريات
۞ قَالَ فَمَا خَطْبُكُمْ أَيُّهَا ٱلْمُرْسَلُونَ
ابراہیمؑ نے کہا "اے فرستادگان الٰہی، کیا مہم آپ کو در پیش ہے؟
قَالُوٓا۟ إِنَّآ أُرْسِلْنَآ إِلَىٰ قَوْمٍۢ مُّجْرِمِينَ
انہوں نے کہا "ہم ایک مجرم قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں
لِنُرْسِلَ عَلَيْهِمْ حِجَارَةًۭ مِّن طِينٍۢ
تاکہ اُس پر پکی ہوئی مٹی کے پتھر برسا دیں
مُّسَوَّمَةً عِندَ رَبِّكَ لِلْمُسْرِفِينَ
جو آپ کے رب کے ہاں حد سے گزر جانے والوں کے لیے نشان زدہ ہیں"
فَأَخْرَجْنَا مَن كَانَ فِيهَا مِنَ ٱلْمُؤْمِنِينَ
پھر ہم نے اُن سب لوگوں کو نکال لیا جو اُس بستی میں مومن تھے
فَمَا وَجَدْنَا فِيهَا غَيْرَ بَيْتٍۢ مِّنَ ٱلْمُسْلِمِينَ
اور وہاں ہم نے ایک گھر کے سوا مسلمانوں کا کوئی گھر نہ پایا
وَتَرَكْنَا فِيهَآ ءَايَةًۭ لِّلَّذِينَ يَخَافُونَ ٱلْعَذَابَ ٱلْأَلِيمَ
اس کے بعد ہم نے وہاں بس ایک نشانی اُن لوگوں کے لیے چھوڑ دی جو درد ناک عذاب سے ڈرتے ہوں
وَفِى مُوسَىٰٓ إِذْ أَرْسَلْنَٰهُ إِلَىٰ فِرْعَوْنَ بِسُلْطَٰنٍۢ مُّبِينٍۢ
اور (تمہارے لیے نشانی ہے) موسیٰؑ کے قصے میں جب ہم نے اُسے صریح سند کے ساتھ فرعون کے پاس بھیجا
فَتَوَلَّىٰ بِرُكْنِهِۦ وَقَالَ سَٰحِرٌ أَوْ مَجْنُونٌۭ
تو وہ اپنے بل بوتے پر اکڑ گیا اور بولا یہ جادوگر ہے یا مجنوں ہے
فَأَخَذْنَٰهُ وَجُنُودَهُۥ فَنَبَذْنَٰهُمْ فِى ٱلْيَمِّ وَهُوَ مُلِيمٌۭ
آخر کار ہم نے اُسے اور اس کے لشکروں کو پکڑا اور سب کو سمندر میں پھینک دیا اور وہ ملامت زدہ ہو کر رہ گیا
وَفِى عَادٍ إِذْ أَرْسَلْنَا عَلَيْهِمُ ٱلرِّيحَ ٱلْعَقِيمَ
اور (تمہارے لیے نشانی ہے) عاد میں، جبکہ ہم نے ان پر ایک ایسی بے خیر ہوا بھیج دی
مَا تَذَرُ مِن شَىْءٍ أَتَتْ عَلَيْهِ إِلَّا جَعَلَتْهُ كَٱلرَّمِيمِ
کہ جس چیز پر بھی وہ گزر گئی اسے بوسیدہ کر کے رکھ دیا
وَفِى ثَمُودَ إِذْ قِيلَ لَهُمْ تَمَتَّعُوا۟ حَتَّىٰ حِينٍۢ
اور (تمہارے لیے نشانی ہے) ثمود میں، جب اُن سے کہا گیا تھا کہ ایک خاص وقت تک مزے کر لو
فَعَتَوْا۟ عَنْ أَمْرِ رَبِّهِمْ فَأَخَذَتْهُمُ ٱلصَّٰعِقَةُ وَهُمْ يَنظُرُونَ
مگر اس تنبیہ پر بھی انہوں نے اپنے رب کے حکم سے سرتابی کی آخر کار ان کے دیکھتے دیکھتے ایک اچانک ٹوٹ پڑنے والے عذاب نے اُن کو آ لیا
فَمَا ٱسْتَطَٰعُوا۟ مِن قِيَامٍۢ وَمَا كَانُوا۟ مُنتَصِرِينَ
پھر نہ اُن میں اٹھنے کی سکت تھی اور نہ وہ اپنا بچاؤ کر سکتے تھے
وَقَوْمَ نُوحٍۢ مِّن قَبْلُ ۖ إِنَّهُمْ كَانُوا۟ قَوْمًۭا فَٰسِقِينَ
اور ان سب سے پہلے ہم نے نوحؑ کی قوم کو ہلاک کیا کیونکہ وہ فاسق لوگ تھے
وَٱلسَّمَآءَ بَنَيْنَٰهَا بِأَيْي۟دٍۢ وَإِنَّا لَمُوسِعُونَ
آسمان کو ہم نے اپنے زور سے بنایا ہے اور ہم اِس کی قدرت رکھتے ہیں
وَٱلْأَرْضَ فَرَشْنَٰهَا فَنِعْمَ ٱلْمَٰهِدُونَ
زمین کو ہم نے بچھایا ہے اور ہم بڑے اچھے ہموار کرنے والے ہیں
وَمِن كُلِّ شَىْءٍ خَلَقْنَا زَوْجَيْنِ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ
اور ہر چیز کے ہم نے جوڑے بنائے ہیں، شاید کہ تم اس سے سبق لو
فَفِرُّوٓا۟ إِلَى ٱللَّهِ ۖ إِنِّى لَكُم مِّنْهُ نَذِيرٌۭ مُّبِينٌۭ
تو دوڑو اللہ کی طرف، میں تمہارے لیے اس کی طرف سے صاف صاف خبردار کرنے والا ہوں
وَلَا تَجْعَلُوا۟ مَعَ ٱللَّهِ إِلَٰهًا ءَاخَرَ ۖ إِنِّى لَكُم مِّنْهُ نَذِيرٌۭ مُّبِينٌۭ
اور نہ بناؤ اللہ کے ساتھ کوئی دوسرا معبود، میں تمہارے لیے اُس کی طرف سے صاف صاف خبردار کرنے والا ہوں
كَذَٰلِكَ مَآ أَتَى ٱلَّذِينَ مِن قَبْلِهِم مِّن رَّسُولٍ إِلَّا قَالُوا۟ سَاحِرٌ أَوْ مَجْنُونٌ
یونہی ہوتا رہا ہے، اِن سے پہلے کی قوموں کے پاس بھی کوئی رسول ایسا نہیں آیا جسے انہوں نے یہ نہ کہا ہو کہ یہ ساحر ہے یا مجنون
أَتَوَاصَوْا۟ بِهِۦ ۚ بَلْ هُمْ قَوْمٌۭ طَاغُونَ
کیا اِن سب نے آپس میں اِس پر کوئی سمجھوتہ کر لیا ہے؟ نہیں، بکہ یہ سب سرکش لوگ ہیں
فَتَوَلَّ عَنْهُمْ فَمَآ أَنتَ بِمَلُومٍۢ
پس اے نبیؐ، ان سے رخ پھیر لو، تم پر کچھ ملامت نہیں
وَذَكِّرْ فَإِنَّ ٱلذِّكْرَىٰ تَنفَعُ ٱلْمُؤْمِنِينَ
البتہ نصیحت کرتے رہو، کیونکہ نصیحت ایمان لانے والوں کے لیے نافع ہے
وَمَا خَلَقْتُ ٱلْجِنَّ وَٱلْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ
میں نے جن اور انسانوں کو اِس کے سوا کسی کام کے لیے پیدا نہیں کیا ہے کہ وہ میری بندگی کریں
مَآ أُرِيدُ مِنْهُم مِّن رِّزْقٍۢ وَمَآ أُرِيدُ أَن يُطْعِمُونِ
میں اُن سے کوئی رزق نہیں چاہتا اور نہ یہ چاہتا ہوں کہ وہ مجھے کھلائیں
إِنَّ ٱللَّهَ هُوَ ٱلرَّزَّاقُ ذُو ٱلْقُوَّةِ ٱلْمَتِينُ
اللہ تو خود ہی رزاق ہے، بڑی قوت والا اور زبردست
فَإِنَّ لِلَّذِينَ ظَلَمُوا۟ ذَنُوبًۭا مِّثْلَ ذَنُوبِ أَصْحَٰبِهِمْ فَلَا يَسْتَعْجِلُونِ
پس جن لوگوں نے ظلم کیا ہے ان کے حصے کا بھی ویسا ہی عذاب تیار ہے جیسا اِنہی جیسے لوگوں کو اُن کے حصے کا مل چکا ہے، اس کے لیے یہ لوگ جلدی نہ مچائیں
فَوَيْلٌۭ لِّلَّذِينَ كَفَرُوا۟ مِن يَوْمِهِمُ ٱلَّذِى يُوعَدُونَ
آخر کو تباہی ہے کفر کرنے والوں کے لیے اُس روز جس کا انہیں خوف دلایا جا رہا ہے
Surah 52: At-Tur — الطور
وَٱلطُّورِ
قسم ہے طور کی
وَكِتَٰبٍۢ مَّسْطُورٍۢ
اور ایک ایسی کھلی کتاب کی
فِى رَقٍّۢ مَّنشُورٍۢ
جو رقیق جلد میں لکھی ہوئی ہے
وَٱلْبَيْتِ ٱلْمَعْمُورِ
اور آباد گھر کی
وَٱلسَّقْفِ ٱلْمَرْفُوعِ
اور اونچی چھت کی
وَٱلْبَحْرِ ٱلْمَسْجُورِ
اور موجزن سمندر کی
إِنَّ عَذَابَ رَبِّكَ لَوَٰقِعٌۭ
کہ تیرے رب کا عذاب ضرور واقع ہونے والا ہے
مَّا لَهُۥ مِن دَافِعٍۢ
جسے کوئی دفع کرنے والا نہیں
يَوْمَ تَمُورُ ٱلسَّمَآءُ مَوْرًۭا
وہ اُس روز واقع ہوگا جب آسمان بری طرح ڈگمگائے گا
وَتَسِيرُ ٱلْجِبَالُ سَيْرًۭا
اور پہاڑ اڑے اڑے پھریں گے
فَوَيْلٌۭ يَوْمَئِذٍۢ لِّلْمُكَذِّبِينَ
تباہی ہے اُس روز اُن جھٹلانے والوں کے لیے
ٱلَّذِينَ هُمْ فِى خَوْضٍۢ يَلْعَبُونَ
جو آج کھیل کے طور پر اپنی حجت بازیوں میں لگے ہوئے ہیں
يَوْمَ يُدَعُّونَ إِلَىٰ نَارِ جَهَنَّمَ دَعًّا
جس دن انہیں دھکے مار مار کر نار جہنم کی طرف لے چلا جائے گا
هَٰذِهِ ٱلنَّارُ ٱلَّتِى كُنتُم بِهَا تُكَذِّبُونَ
اُس وقت اُن سے کہا جائے گا کہ "یہ وہی آگ ہے جسے تم جھٹلایا کرتے تھے
أَفَسِحْرٌ هَٰذَآ أَمْ أَنتُمْ لَا تُبْصِرُونَ
اب بتاؤ یہ جادو ہے یا تمہیں سوجھ نہیں رہا ہے؟
ٱصْلَوْهَا فَٱصْبِرُوٓا۟ أَوْ لَا تَصْبِرُوا۟ سَوَآءٌ عَلَيْكُمْ ۖ إِنَّمَا تُجْزَوْنَ مَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ
جاؤ اب جھلسو اِس کے اندر، تم خواہ صبر کرو یا نہ کرو، تمہارے لیے یکساں ہے، تمہیں ویسا ہی بدلہ دیا جا رہا ہے جیسے تم عمل کر رہے تھے
إِنَّ ٱلْمُتَّقِينَ فِى جَنَّٰتٍۢ وَنَعِيمٍۢ
متقی لوگ وہاں باغوں اور نعمتوں میں ہوں گے
فَٰكِهِينَ بِمَآ ءَاتَىٰهُمْ رَبُّهُمْ وَوَقَىٰهُمْ رَبُّهُمْ عَذَابَ ٱلْجَحِيمِ
لطف لے رہے ہوں گے اُن چیزوں سے جو اُن کا رب انہیں دے گا، اور اُن کا رب اُنہیں دوزخ کے عذاب سے بچا لے گا
كُلُوا۟ وَٱشْرَبُوا۟ هَنِيٓـًٔۢا بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ
(ان سے کہا جائے گا) کھاؤ اور پیو مزے سے اپنے اُن اعمال کے صلے میں جو تم کرتے رہے ہو
مُتَّكِـِٔينَ عَلَىٰ سُرُرٍۢ مَّصْفُوفَةٍۢ ۖ وَزَوَّجْنَٰهُم بِحُورٍ عِينٍۢ
وہ آمنے سامنے بچھے ہوئے تختوں پر تکیے لگائے بیٹھے ہوں گے اور ہم خوبصورت آنکھوں والی حوریں اُن سے بیاہ دیں گے
وَٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَٱتَّبَعَتْهُمْ ذُرِّيَّتُهُم بِإِيمَٰنٍ أَلْحَقْنَا بِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ وَمَآ أَلَتْنَٰهُم مِّنْ عَمَلِهِم مِّن شَىْءٍۢ ۚ كُلُّ ٱمْرِئٍۭ بِمَا كَسَبَ رَهِينٌۭ
جو لوگ ایمان لائے ہیں اور اُن کی اولاد بھی کسی درجہ ایمان میں ان کے نقش قدم پر چلی ہے ان کی اُس اولاد کو بھی ہم (جنت میں) اُن کے ساتھ ملا دیں گے اور اُن کے عمل میں کوئی گھاٹا ان کو نہ دیں گے ہر شخص اپنے کسب کے عوض رہن ہے
وَأَمْدَدْنَٰهُم بِفَٰكِهَةٍۢ وَلَحْمٍۢ مِّمَّا يَشْتَهُونَ
ہم اُن کو ہر طرح کے پھل اور گوشت، جس چیز کو بھی ان کا جی چاہے گا، خوب دیے چلے جائیں گے
يَتَنَٰزَعُونَ فِيهَا كَأْسًۭا لَّا لَغْوٌۭ فِيهَا وَلَا تَأْثِيمٌۭ
وہاں وہ ایک دوسرے سے جام شراب لپک لپک کر لے رہے ہوں گے جس میں نہ یاوہ گوئی ہوگی نہ بد کرداری
۞ وَيَطُوفُ عَلَيْهِمْ غِلْمَانٌۭ لَّهُمْ كَأَنَّهُمْ لُؤْلُؤٌۭ مَّكْنُونٌۭ
اور اُن کی خدمت میں وہ لڑکے دوڑتے پھر رہے ہوں گے جو انہی کے لیے مخصوص ہوں گے ایسے خوبصورت جیسے چھپا کر رکھے ہوئے موتی
وَأَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍۢ يَتَسَآءَلُونَ
یہ لوگ آپس میں ایک دوسرے سے (دنیا میں گزرے ہوئے) حالات پوچھیں گے
قَالُوٓا۟ إِنَّا كُنَّا قَبْلُ فِىٓ أَهْلِنَا مُشْفِقِينَ
یہ کہیں گے کہ ہم پہلے اپنے گھر والوں میں ڈرتے ہوئے زندگی بسر کرتے تھے
فَمَنَّ ٱللَّهُ عَلَيْنَا وَوَقَىٰنَا عَذَابَ ٱلسَّمُومِ
آخر کار اللہ نے ہم پر فضل فرمایا اور ہمیں جھلسا دینے والی ہوا کے عذاب سے بچا لیا
إِنَّا كُنَّا مِن قَبْلُ نَدْعُوهُ ۖ إِنَّهُۥ هُوَ ٱلْبَرُّ ٱلرَّحِيمُ
ہم پچھلی زندگی میں اُسی سے دعائیں مانگتے تھے، وہ واقعی بڑا ہی محسن اور رحیم ہے
فَذَكِّرْ فَمَآ أَنتَ بِنِعْمَتِ رَبِّكَ بِكَاهِنٍۢ وَلَا مَجْنُونٍ
پس اے نبیؐ، تم نصیحت کیے جاؤ، اپنے رب کے فضل سے نہ تم کاہن ہو اور نہ مجنون
أَمْ يَقُولُونَ شَاعِرٌۭ نَّتَرَبَّصُ بِهِۦ رَيْبَ ٱلْمَنُونِ
کیا یہ لوگ کہتے ہیں کہ یہ شخص شاعر ہے جس کے حق میں ہم گردش ایام کا انتظار کر رہے ہیں؟
قُلْ تَرَبَّصُوا۟ فَإِنِّى مَعَكُم مِّنَ ٱلْمُتَرَبِّصِينَ
اِن سے کہو اچھا انتظار کرو، میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتا ہوں
أَمْ تَأْمُرُهُمْ أَحْلَٰمُهُم بِهَٰذَآ ۚ أَمْ هُمْ قَوْمٌۭ طَاغُونَ
کیا اِن کی عقلیں اِنہیں ایسی ہی باتیں کرنے کے لیے کہتی ہیں؟ یا در حقیقت یہ عناد میں حد سے گزرے ہوئے لوگ ہیں؟
أَمْ يَقُولُونَ تَقَوَّلَهُۥ ۚ بَل لَّا يُؤْمِنُونَ
کیا یہ کہتے ہیں کہ اِس شخص نے یہ قرآن خود گھڑ لیا ہے؟ اصل بات یہ ہے کہ یہ ایمان نہیں لانا چاہتے
فَلْيَأْتُوا۟ بِحَدِيثٍۢ مِّثْلِهِۦٓ إِن كَانُوا۟ صَٰدِقِينَ
اگر یہ اپنے اِس قول میں سچے ہیں تو اِسی شان کا ایک کلام بنا لائیں
أَمْ خُلِقُوا۟ مِنْ غَيْرِ شَىْءٍ أَمْ هُمُ ٱلْخَٰلِقُونَ
کیا یہ کسی خالق کے بغیر خود پیدا ہو گئے ہیں؟ یا یہ خود اپنے خالق ہیں؟
أَمْ خَلَقُوا۟ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضَ ۚ بَل لَّا يُوقِنُونَ
یا زمین اور آسمانوں کو اِنہوں نے پیدا کیا ہے؟ اصل بات یہ ہے کہ یہ یقین نہیں رکھتے
أَمْ عِندَهُمْ خَزَآئِنُ رَبِّكَ أَمْ هُمُ ٱلْمُصَۣيْطِرُونَ
کیا تیرے رب کے خزانے اِن کے قبضے میں ہیں؟ یا اُن پر اِنہی کا حکم چلتا ہے؟
أَمْ لَهُمْ سُلَّمٌۭ يَسْتَمِعُونَ فِيهِ ۖ فَلْيَأْتِ مُسْتَمِعُهُم بِسُلْطَٰنٍۢ مُّبِينٍ
کیا اِن کے پاس کوئی سیڑھی ہے جس پر چڑھ کر یہ عالم بالا کی سن گن لیتے ہیں؟ اِن میں سے جس نے سن گن لی ہو وہ لائے کوئی کھلی دلیل
أَمْ لَهُ ٱلْبَنَٰتُ وَلَكُمُ ٱلْبَنُونَ
کیا اللہ کے لیے تو ہیں بیٹیاں اور تم لوگوں کے لیے ہیں بیٹے؟
أَمْ تَسْـَٔلُهُمْ أَجْرًۭا فَهُم مِّن مَّغْرَمٍۢ مُّثْقَلُونَ
کیا تم اِن سے کوئی اجر مانگتے ہو کہ یہ زبردستی پڑی ہوئی چٹی کے بوجھ تلے دبے جاتے ہیں؟
أَمْ عِندَهُمُ ٱلْغَيْبُ فَهُمْ يَكْتُبُونَ
کیا اِن کے پاس غیب کے حقائق کا علم ہے کہ اُس کی بنا پر یہ لکھ رہے ہوں؟
أَمْ يُرِيدُونَ كَيْدًۭا ۖ فَٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ هُمُ ٱلْمَكِيدُونَ
کیا یہ کوئی چال چلنا چاہتے ہیں؟ (اگر یہ بات ہے) تو کفر کرنے والوں پر ان کی چال الٹی ہی پڑے گی
أَمْ لَهُمْ إِلَٰهٌ غَيْرُ ٱللَّهِ ۚ سُبْحَٰنَ ٱللَّهِ عَمَّا يُشْرِكُونَ
کیا اللہ کے سوا یہ کوئی اور معبود رکھتے ہیں؟ اللہ پاک ہے اُس شرک سے جو یہ لوگ کر رہے ہیں
وَإِن يَرَوْا۟ كِسْفًۭا مِّنَ ٱلسَّمَآءِ سَاقِطًۭا يَقُولُوا۟ سَحَابٌۭ مَّرْكُومٌۭ
یہ لوگ آسمان کے ٹکڑے بھی گرتے ہوئے دیکھ لیں تو کہیں گے یہ بادل ہیں جو امڈے چلے آ رہے ہیں
فَذَرْهُمْ حَتَّىٰ يُلَٰقُوا۟ يَوْمَهُمُ ٱلَّذِى فِيهِ يُصْعَقُونَ
پس اے نبیؐ، اِنہیں اِن کے حال پر چھوڑ دو یہاں تک کہ یہ اپنے اُس دن کو پہنچ جائیں جس میں یہ مار گرائے جائیں گے
يَوْمَ لَا يُغْنِى عَنْهُمْ كَيْدُهُمْ شَيْـًۭٔا وَلَا هُمْ يُنصَرُونَ
جس دن نہ اِن کی اپنی کوئی چال اِن کے کسی کام آئے گی نہ کوئی اِن کی مدد کو آئے گا
وَإِنَّ لِلَّذِينَ ظَلَمُوا۟ عَذَابًۭا دُونَ ذَٰلِكَ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُونَ
اور اُس وقت کے آنے سے پہلے بھی ظالموں کے لیے ایک عذاب ہے، مگر اِن میں سے اکثر جانتے نہیں ہیں
وَٱصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ فَإِنَّكَ بِأَعْيُنِنَا ۖ وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ حِينَ تَقُومُ
اے نبیؐ، اپنے رب کا فیصلہ آنے تک صبر کرو، تم ہماری نگاہ میں ہو تم جب اٹھو تو اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرو
وَمِنَ ٱلَّيْلِ فَسَبِّحْهُ وَإِدْبَٰرَ ٱلنُّجُومِ
رات کو بھی اس کی تسبیح کیا کرو اور ستارے جب پلٹتے ہیں اُس وقت بھی
Surah 53: An-Najm — النجم
وَٱلنَّجْمِ إِذَا هَوَىٰ
قسم ہے تارے کی جبکہ وہ غروب ہوا
مَا ضَلَّ صَاحِبُكُمْ وَمَا غَوَىٰ
تمہارا رفیق نہ بھٹکا ہے نہ بہکا ہے
وَمَا يَنطِقُ عَنِ ٱلْهَوَىٰٓ
وہ اپنی خواہش نفس سے نہیں بولتا
إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْىٌۭ يُوحَىٰ
یہ تو ایک وحی ہے جو اُس پر نازل کی جاتی ہے
عَلَّمَهُۥ شَدِيدُ ٱلْقُوَىٰ
اُسے زبردست قوت والے نے تعلیم دی ہے
ذُو مِرَّةٍۢ فَٱسْتَوَىٰ
جو بڑا صاحب حکمت ہے
وَهُوَ بِٱلْأُفُقِ ٱلْأَعْلَىٰ
وہ سامنے آ کھڑا ہوا جبکہ وہ بالائی افق پر تھا
ثُمَّ دَنَا فَتَدَلَّىٰ
پھر قریب آیا اور اوپر معلق ہو گیا
فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَىٰ
یہاں تک کہ دو کمانوں کے برابر یا اس سے کچھ کم فاصلہ رہ گیا
فَأَوْحَىٰٓ إِلَىٰ عَبْدِهِۦ مَآ أَوْحَىٰ
تب اُس نے اللہ کے بندے کو وحی پہنچائی جو وحی بھی اُسے پہنچانی تھی
مَا كَذَبَ ٱلْفُؤَادُ مَا رَأَىٰٓ
نظر نے جو کچھ دیکھا، دل نے اُس میں جھوٹ نہ ملایا
أَفَتُمَٰرُونَهُۥ عَلَىٰ مَا يَرَىٰ
اب کیا تم اُس چیز پر اُس سے جھگڑتے ہو جسے وہ آنکھوں سے دیکھتا ہے؟
وَلَقَدْ رَءَاهُ نَزْلَةً أُخْرَىٰ
اور ایک مرتبہ پھر اُس نے
عِندَ سِدْرَةِ ٱلْمُنتَهَىٰ
سدرۃالمنتہیٰ کے پاس اُس کو دیکھا
عِندَهَا جَنَّةُ ٱلْمَأْوَىٰٓ
جہاں پاس ہی جنت الماویٰ ہے
إِذْ يَغْشَى ٱلسِّدْرَةَ مَا يَغْشَىٰ
اُس وقت سدرہ پر چھا رہا تھا جو کچھ کہ چھا رہا تھا
مَا زَاغَ ٱلْبَصَرُ وَمَا طَغَىٰ
نگاہ نہ چوندھیائی نہ حد سے متجاوز ہوئی
لَقَدْ رَأَىٰ مِنْ ءَايَٰتِ رَبِّهِ ٱلْكُبْرَىٰٓ
اور اس نے اپنے رب کی بڑی بڑی نشانیاں دیکھیں
أَفَرَءَيْتُمُ ٱللَّٰتَ وَٱلْعُزَّىٰ
اب ذرا بتاؤ، تم نے کبھی اِس لات، اور اِس عزیٰ
وَمَنَوٰةَ ٱلثَّالِثَةَ ٱلْأُخْرَىٰٓ
اور تیسری ایک اور دیوی منات کی حقیقت پر کچھ غور بھی کیا؟
أَلَكُمُ ٱلذَّكَرُ وَلَهُ ٱلْأُنثَىٰ
کیا بیٹے تمہارے لیے ہیں اور بیٹیاں خدا کے لیے؟
تِلْكَ إِذًۭا قِسْمَةٌۭ ضِيزَىٰٓ
یہ تو بڑی دھاندلی کی تقسیم ہوئی!
إِنْ هِىَ إِلَّآ أَسْمَآءٌۭ سَمَّيْتُمُوهَآ أَنتُمْ وَءَابَآؤُكُم مَّآ أَنزَلَ ٱللَّهُ بِهَا مِن سُلْطَٰنٍ ۚ إِن يَتَّبِعُونَ إِلَّا ٱلظَّنَّ وَمَا تَهْوَى ٱلْأَنفُسُ ۖ وَلَقَدْ جَآءَهُم مِّن رَّبِّهِمُ ٱلْهُدَىٰٓ
دراصل یہ کچھ نہیں ہیں مگر بس چند نام جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے رکھ لیے ہیں اللہ نے اِن کے لیے کوئی سند نازل نہیں کی حقیقت یہ ہے کہ لوگ محض وہم و گمان کی پیروی کر رہے ہیں اور خواہشات نفس کے مرید بنے ہوئے ہیں حالانکہ اُن کے رب کی طرف سے اُن کے پاس ہدایت آ چکی ہے
أَمْ لِلْإِنسَٰنِ مَا تَمَنَّىٰ
کیا انسان جو کچھ چاہے اس کے لیے وحی حق ہے
فَلِلَّهِ ٱلْءَاخِرَةُ وَٱلْأُولَىٰ
دنیا اور آخرت کا مالک تو اللہ ہی ہے
۞ وَكَم مِّن مَّلَكٍۢ فِى ٱلسَّمَٰوَٰتِ لَا تُغْنِى شَفَٰعَتُهُمْ شَيْـًٔا إِلَّا مِنۢ بَعْدِ أَن يَأْذَنَ ٱللَّهُ لِمَن يَشَآءُ وَيَرْضَىٰٓ
آسمانوں میں کتنے ہی فرشتے موجود ہیں، اُن کی شفاعت کچھ بھی کام نہیں آ سکتی جب تک کہ اللہ کسی ایسے شخص کے حق میں اُس کی اجازت نہ دے جس کے لیے وہ کوئی عرضداشت سننا چاہے اور اس کو پسند کرے
إِنَّ ٱلَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِٱلْءَاخِرَةِ لَيُسَمُّونَ ٱلْمَلَٰٓئِكَةَ تَسْمِيَةَ ٱلْأُنثَىٰ
مگر جو لوگ آخرت کو نہیں مانتے وہ فرشتوں کو دیویوں کے ناموں سے موسوم کرتے ہیں
وَمَا لَهُم بِهِۦ مِنْ عِلْمٍ ۖ إِن يَتَّبِعُونَ إِلَّا ٱلظَّنَّ ۖ وَإِنَّ ٱلظَّنَّ لَا يُغْنِى مِنَ ٱلْحَقِّ شَيْـًۭٔا
حالانکہ اس معاملہ کا کوئی علم انہیں حاصل نہیں ہے، وہ محض گمان کی پیروی کر رہے ہیں، اور گمان حق کی جگہ کچھ بھی کام نہیں دے سکتا
فَأَعْرِضْ عَن مَّن تَوَلَّىٰ عَن ذِكْرِنَا وَلَمْ يُرِدْ إِلَّا ٱلْحَيَوٰةَ ٱلدُّنْيَا
پس اے نبیؐ، جو شخص ہمارے ذکر سے منہ پھیرتا ہے، اور دنیا کی زندگی کے سوا جسے کچھ مطلوب نہیں ہے، اُسے اس کے حال پر چھوڑ دو
ذَٰلِكَ مَبْلَغُهُم مِّنَ ٱلْعِلْمِ ۚ إِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعْلَمُ بِمَن ضَلَّ عَن سَبِيلِهِۦ وَهُوَ أَعْلَمُ بِمَنِ ٱهْتَدَىٰ
اِن لوگوں کا مبلغ علم بس یہی کچھ ہے، یہ بات تیرا رب ہی زیادہ جانتا ہے کہ اُس کے راستے سے کون بھٹک گیا ہے اور کون سیدھے راستے پر ہے
وَلِلَّهِ مَا فِى ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَمَا فِى ٱلْأَرْضِ لِيَجْزِىَ ٱلَّذِينَ أَسَٰٓـُٔوا۟ بِمَا عَمِلُوا۟ وَيَجْزِىَ ٱلَّذِينَ أَحْسَنُوا۟ بِٱلْحُسْنَى
اور زمین اور آسمانوں کی ہر چیز کا مالک اللہ ہی ہے تاکہ اللہ برائی کرنے والوں کو ان کے عمل کا بدلہ دے اور اُن لوگوں کو اچھی جزا سے نوازے جنہوں نے نیک رویہ اختیار کیا ہے
ٱلَّذِينَ يَجْتَنِبُونَ كَبَٰٓئِرَ ٱلْإِثْمِ وَٱلْفَوَٰحِشَ إِلَّا ٱللَّمَمَ ۚ إِنَّ رَبَّكَ وَٰسِعُ ٱلْمَغْفِرَةِ ۚ هُوَ أَعْلَمُ بِكُمْ إِذْ أَنشَأَكُم مِّنَ ٱلْأَرْضِ وَإِذْ أَنتُمْ أَجِنَّةٌۭ فِى بُطُونِ أُمَّهَٰتِكُمْ ۖ فَلَا تُزَكُّوٓا۟ أَنفُسَكُمْ ۖ هُوَ أَعْلَمُ بِمَنِ ٱتَّقَىٰٓ
جو بڑے بڑے گناہوں اور کھلے کھلے قبیح افعال سے پرہیز کرتے ہیں، الا یہ کہ کچھ قصور اُن سے سرزد ہو جائے بلاشبہ تیرے رب کا دامن مغفرت بہت وسیع ہے وہ تمھیں اُس وقت سے خوب جانتا ہے جب اُس نے زمین سے تمہیں پیدا کیا اور جب تم اپنی ماؤں کے پیٹوں میں ابھی جنین ہی تھے پس اپنے نفس کی پاکی کے دعوے نہ کرو، وہی بہتر جانتا ہے کہ واقعی متقی کون ہے
أَفَرَءَيْتَ ٱلَّذِى تَوَلَّىٰ
پھر اے نبیؐ، تم نے اُس شخص کو بھی دیکھا جو راہ خدا سے پھر گیا
وَأَعْطَىٰ قَلِيلًۭا وَأَكْدَىٰٓ
اور تھوڑا سا دے کر رک گیا
أَعِندَهُۥ عِلْمُ ٱلْغَيْبِ فَهُوَ يَرَىٰٓ
کیا اس کے پاس غیب کا علم ہے کہ وہ حقیقت کو دیکھ رہا ہے؟
أَمْ لَمْ يُنَبَّأْ بِمَا فِى صُحُفِ مُوسَىٰ
کیا اُسے اُن باتوں کی کوئی خبر نہیں پہنچی جو موسیٰؑ کے صحیفوں
وَإِبْرَٰهِيمَ ٱلَّذِى وَفَّىٰٓ
اور اُس ابراہیمؑ کے صحیفوں میں بیان ہوئی ہیں جس نے وفا کا حق ادا کر دیا؟
أَلَّا تَزِرُ وَازِرَةٌۭ وِزْرَ أُخْرَىٰ
"یہ کہ کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا
وَأَن لَّيْسَ لِلْإِنسَٰنِ إِلَّا مَا سَعَىٰ
اور یہ کہ انسان کے لیے کچھ نہیں ہے مگر وہ جس کی اُس نے سعی کی ہے
وَأَنَّ سَعْيَهُۥ سَوْفَ يُرَىٰ
اور یہ کہ اس کی سعی عنقریب دیکھی جائے گی
ثُمَّ يُجْزَىٰهُ ٱلْجَزَآءَ ٱلْأَوْفَىٰ
اور اس کی پوری جزا اسے دی جائے گی
وَأَنَّ إِلَىٰ رَبِّكَ ٱلْمُنتَهَىٰ
اور یہ کہ آخر کار پہنچنا تیرے رب ہی کے پاس ہے
وَأَنَّهُۥ هُوَ أَضْحَكَ وَأَبْكَىٰ
اور یہ کہ اُسی نے ہنسایا اور اُسی نے رلایا
وَأَنَّهُۥ هُوَ أَمَاتَ وَأَحْيَا
اور یہ کہ اُسی نے موت دی اور اُسی نے زندگی بخشی
وَأَنَّهُۥ خَلَقَ ٱلزَّوْجَيْنِ ٱلذَّكَرَ وَٱلْأُنثَىٰ
اور یہ کہ اُسی نے نر اور مادہ کا جوڑا پیدا کیا
مِن نُّطْفَةٍ إِذَا تُمْنَىٰ
ایک بوند سے جب وہ ٹپکائی جاتی ہے
وَأَنَّ عَلَيْهِ ٱلنَّشْأَةَ ٱلْأُخْرَىٰ
اور یہ کہ دوسری زندگی بخشنا بھی اُسی کے ذمہ ہے
وَأَنَّهُۥ هُوَ أَغْنَىٰ وَأَقْنَىٰ
اور یہ کہ اُسی نے غنی کیا اور جائداد بخشی
وَأَنَّهُۥ هُوَ رَبُّ ٱلشِّعْرَىٰ
اور یہ کہ وہی شعریٰ کا رب ہے
وَأَنَّهُۥٓ أَهْلَكَ عَادًا ٱلْأُولَىٰ
اور یہ کہ اُسی نے عاد اولیٰ کو ہلاک کیا
وَثَمُودَا۟ فَمَآ أَبْقَىٰ
اور ثمود کو ایسا مٹایا کہ ان میں سے کسی کو باقی نہ چھوڑا
وَقَوْمَ نُوحٍۢ مِّن قَبْلُ ۖ إِنَّهُمْ كَانُوا۟ هُمْ أَظْلَمَ وَأَطْغَىٰ
اور اُن سے پہلے قوم نوحؑ کو تباہ کیا کیونکہ وہ تھے ہی سخت ظالم و سرکش لوگ
وَٱلْمُؤْتَفِكَةَ أَهْوَىٰ
اور اوندھی گرنے والی بستیوں کو اٹھا پھینکا
فَغَشَّىٰهَا مَا غَشَّىٰ
پھر چھا دیا اُن پر وہ کچھ جو (تم جانتے ہی ہو کہ) کیا چھا دیا
فَبِأَىِّ ءَالَآءِ رَبِّكَ تَتَمَارَىٰ
پس اے مخاطب، اپنے رب کی کن کن نعمتوں میں تو شک کرے گا؟"
هَٰذَا نَذِيرٌۭ مِّنَ ٱلنُّذُرِ ٱلْأُولَىٰٓ
یہ ایک تنبیہ ہے پہلے آئی ہوئی تنبیہات میں سے
أَزِفَتِ ٱلْءَازِفَةُ
آنے والی گھڑی قریب آ لگی ہے
لَيْسَ لَهَا مِن دُونِ ٱللَّهِ كَاشِفَةٌ
اللہ کے سوا کوئی اُس کو ہٹا نے والا نہیں
أَفَمِنْ هَٰذَا ٱلْحَدِيثِ تَعْجَبُونَ
اب کیا یہی وہ باتیں ہیں جن پر تم اظہار تعجب کرتے ہو؟
وَتَضْحَكُونَ وَلَا تَبْكُونَ
ہنستے ہو اور روتے نہیں ہو؟
وَأَنتُمْ سَٰمِدُونَ
اور گا بجا کر انہیں ٹالتے ہو؟
فَٱسْجُدُوا۟ لِلَّهِ وَٱعْبُدُوا۟ ۩
جھک جاؤ اللہ کے آگے اور بندگی بجا لاؤ
Surah 54: Al-Qamar — القمر
ٱقْتَرَبَتِ ٱلسَّاعَةُ وَٱنشَقَّ ٱلْقَمَرُ
قیامت کی گھڑی قریب آ گئی اور چاند پھٹ گیا
وَإِن يَرَوْا۟ ءَايَةًۭ يُعْرِضُوا۟ وَيَقُولُوا۟ سِحْرٌۭ مُّسْتَمِرٌّۭ
مگر اِن لوگوں کا حال یہ ہے کہ خواہ کوئی نشانی دیکھ لیں منہ موڑ جاتے ہیں اور کہتے ہیں یہ تو چلتا ہوا جادو ہے
وَكَذَّبُوا۟ وَٱتَّبَعُوٓا۟ أَهْوَآءَهُمْ ۚ وَكُلُّ أَمْرٍۢ مُّسْتَقِرٌّۭ
اِنہوں نے (اس کو بھی) جھٹلا دیا اور اپنی خواہشات نفس ہی کی پیروی کی ہر معاملہ کو آخر کار ایک انجام پر پہنچ کر رہنا ہے
وَلَقَدْ جَآءَهُم مِّنَ ٱلْأَنۢبَآءِ مَا فِيهِ مُزْدَجَرٌ
اِن لوگوں کے سامنے (پچھلی قوموں کے) وہ حالات آ چکے ہیں جن میں سرکشی سے باز رکھنے کے لیے کافی سامان عبرت ہے
حِكْمَةٌۢ بَٰلِغَةٌۭ ۖ فَمَا تُغْنِ ٱلنُّذُرُ
اور ایسی حکمت جو نصیحت کے مقصد کو بدرجہ اتم پورا کرتی ہے مگر تنبیہات اِن پر کارگر نہیں ہوتیں
فَتَوَلَّ عَنْهُمْ ۘ يَوْمَ يَدْعُ ٱلدَّاعِ إِلَىٰ شَىْءٍۢ نُّكُرٍ
پس اے نبیؐ، اِن سے رخ پھیر لو جس روز پکارنے والا ایک سخت ناگوار چیز کی طرف پکارے گا
خُشَّعًا أَبْصَٰرُهُمْ يَخْرُجُونَ مِنَ ٱلْأَجْدَاثِ كَأَنَّهُمْ جَرَادٌۭ مُّنتَشِرٌۭ
لوگ سہمی ہوئی نگاہوں کے ساتھ اپنی قبروں سے اِس طرح نکلیں گے گویا وہ بکھری ہوئی ٹڈیاں ہیں
مُّهْطِعِينَ إِلَى ٱلدَّاعِ ۖ يَقُولُ ٱلْكَٰفِرُونَ هَٰذَا يَوْمٌ عَسِرٌۭ
پکارنے والے کی طرف دوڑے جا رہے ہوں گے اور وہی منکرین (جو دنیا میں اس کا انکار کرتے تھے) اُس وقت کہیں گے کہ یہ دن تو بڑا کٹھن ہے
۞ كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوحٍۢ فَكَذَّبُوا۟ عَبْدَنَا وَقَالُوا۟ مَجْنُونٌۭ وَٱزْدُجِرَ
اِن سے پہلے نوحؑ کی قوم جھٹلا چکی ہے اُنہوں نے ہمارے بندے کو جھوٹا قرار دیا اور کہا کہ یہ دیوانہ ہے، اور وہ بری طرح جھڑکا گیا
فَدَعَا رَبَّهُۥٓ أَنِّى مَغْلُوبٌۭ فَٱنتَصِرْ
آخر کار اُس نے اپنے رب کو پکارا کہ "میں مغلوب ہو چکا، اب تو اِن سے انتقام لے"
فَفَتَحْنَآ أَبْوَٰبَ ٱلسَّمَآءِ بِمَآءٍۢ مُّنْهَمِرٍۢ
تب ہم نے موسلا دھار بارش سے آسمان کے دروازے کھول دیے اور زمین کو پھاڑ کر چشموں میں تبدیل کر دیا
وَفَجَّرْنَا ٱلْأَرْضَ عُيُونًۭا فَٱلْتَقَى ٱلْمَآءُ عَلَىٰٓ أَمْرٍۢ قَدْ قُدِرَ
اور یہ سارا پانی اُس کام کو پورا کرنے لیے مل گیا جو مقدر ہو چکا تھا
وَحَمَلْنَٰهُ عَلَىٰ ذَاتِ أَلْوَٰحٍۢ وَدُسُرٍۢ
اور نوحؑ کو ہم نے ایک تختوں اور کیلوں والی پر سوار کر دیا
تَجْرِى بِأَعْيُنِنَا جَزَآءًۭ لِّمَن كَانَ كُفِرَ
جو ہماری نگرانی میں چل رہی تھی یہ تھا بدلہ اُس شخص کی خاطر جس کی نا قدری کی گئی تھی
وَلَقَد تَّرَكْنَٰهَآ ءَايَةًۭ فَهَلْ مِن مُّدَّكِرٍۢ
اُس کشتی کو ہم نے ایک نشانی بنا کر چھوڑ دیا، پھر کوئی ہے نصیحت قبول کرنے والا؟
فَكَيْفَ كَانَ عَذَابِى وَنُذُرِ
دیکھ لو، کیسا تھا میرا عذاب اور کیسی تھیں میری تنبیہات
وَلَقَدْ يَسَّرْنَا ٱلْقُرْءَانَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِن مُّدَّكِرٍۢ
ہم نے اِس قرآن کو نصیحت کے لیے آسان ذریعہ بنا دیا ہے، پھر کیا ہے کوئی نصیحت قبول کرنے والا؟
كَذَّبَتْ عَادٌۭ فَكَيْفَ كَانَ عَذَابِى وَنُذُرِ
عاد نے جھٹلایا، تو دیکھ لو کہ کیسا تھا میرا عذاب اور کیسی تھیں میری تنبیہات
إِنَّآ أَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ رِيحًۭا صَرْصَرًۭا فِى يَوْمِ نَحْسٍۢ مُّسْتَمِرٍّۢ
ہم نے ایک پیہم نحوست کے دن سخت طوفانی ہوا اُن پر بھیج دی جو لوگوں کو اٹھا اٹھا کر اس طرح پھینک رہی تھی
تَنزِعُ ٱلنَّاسَ كَأَنَّهُمْ أَعْجَازُ نَخْلٍۢ مُّنقَعِرٍۢ
جیسے وہ جڑ سے اکھڑے ہوئے کھجور کے تنے ہوں
فَكَيْفَ كَانَ عَذَابِى وَنُذُرِ
پس دیکھ لو کہ کیسا تھا میرا عذاب اور کیسی تھیں میری تنبیہات
وَلَقَدْ يَسَّرْنَا ٱلْقُرْءَانَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِن مُّدَّكِرٍۢ
ہم نے اِس قرآن کو نصیحت کے لیے آسان ذریعہ بنا دیا ہے، پھر کیا ہے کوئی نصیحت قبول کرنے والا؟
كَذَّبَتْ ثَمُودُ بِٱلنُّذُرِ
ثمود نے تنبیہات کو جھٹلایا
فَقَالُوٓا۟ أَبَشَرًۭا مِّنَّا وَٰحِدًۭا نَّتَّبِعُهُۥٓ إِنَّآ إِذًۭا لَّفِى ضَلَٰلٍۢ وَسُعُرٍ
اور کہنے لگے "ایک اکیلا آدمی جو ہم ہی میں سے ہے کیا اب ہم اُس کے پیچھے چلیں؟ اِس کا اتباع ہم قبول کر لیں تو اِس کے معنی یہ ہوں گے کہ ہم بہک گئے ہیں اور ہماری عقل ماری گئی ہے
أَءُلْقِىَ ٱلذِّكْرُ عَلَيْهِ مِنۢ بَيْنِنَا بَلْ هُوَ كَذَّابٌ أَشِرٌۭ
کیا ہمارے درمیان بس یہی ایک شخص تھا جس پر خدا کا ذکر نازل کیا گیا؟ نہیں، بلکہ یہ پرلے درجے کا جھوٹا اور بر خود غلط ہے"
سَيَعْلَمُونَ غَدًۭا مَّنِ ٱلْكَذَّابُ ٱلْأَشِرُ
(ہم نے اپنے پیغمبر سے کہا) "کل ہی اِنہیں معلوم ہوا جاتا ہے کہ کون پرلے درجے کا جھوٹا اور بر خود غلط ہے
إِنَّا مُرْسِلُوا۟ ٱلنَّاقَةِ فِتْنَةًۭ لَّهُمْ فَٱرْتَقِبْهُمْ وَٱصْطَبِرْ
ہم اونٹنی کو اِن کے لیے فتنہ بنا کر بھیج رہے ہیں اب ذرا صبر کے ساتھ دیکھ کہ اِن کا کیا انجام ہوتا ہے
وَنَبِّئْهُمْ أَنَّ ٱلْمَآءَ قِسْمَةٌۢ بَيْنَهُمْ ۖ كُلُّ شِرْبٍۢ مُّحْتَضَرٌۭ
اِن کو جتا دے کہ پانی اِن کے اور اونٹنی کے درمیان تقسیم ہوگا اور ہر ایک اپنی باری کے دن پانی پر آئے گا"
فَنَادَوْا۟ صَاحِبَهُمْ فَتَعَاطَىٰ فَعَقَرَ
آخر کار اُن لوگوں نے اپنے آدمی کو پکارا اور اُس نے اِس کام کا بیڑا اٹھایا اور اونٹنی کو مار ڈالا
فَكَيْفَ كَانَ عَذَابِى وَنُذُرِ
پھر دیکھ لو کہ کیسا تھا میرا عذاب اور کیسی تھیں میری تنبیہات
إِنَّآ أَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ صَيْحَةًۭ وَٰحِدَةًۭ فَكَانُوا۟ كَهَشِيمِ ٱلْمُحْتَظِرِ
ہم نے اُن پر بس ایک ہی دھماکا چھوڑا اور وہ باڑے والے کی روندی ہوئی باڑھ کی طرح بھس ہو کر رہ گئے
وَلَقَدْ يَسَّرْنَا ٱلْقُرْءَانَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِن مُّدَّكِرٍۢ
ہم نے اِس قرآن کو نصیحت کے لیے آسان ذریعہ بنا دیا ہے، اب ہے کوئی نصیحت قبول کرنے والا؟
كَذَّبَتْ قَوْمُ لُوطٍۭ بِٱلنُّذُرِ
لوطؑ کی قوم نے تنبیہات کو جھٹلایا
إِنَّآ أَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ حَاصِبًا إِلَّآ ءَالَ لُوطٍۢ ۖ نَّجَّيْنَٰهُم بِسَحَرٍۢ
اور ہم نے پتھراؤ کرنے والی ہوا اس پر بھیج دی صرف لوطؑ کے گھر والے اُس سے محفوظ رہے
نِّعْمَةًۭ مِّنْ عِندِنَا ۚ كَذَٰلِكَ نَجْزِى مَن شَكَرَ
اُن کو ہم نے اپنے فضل سے رات کے پچھلے پہر بچا کر نکال دیا یہ جزا دیتے ہیں ہم ہر اُس شخص کو جو شکر گزار ہوتا ہے
وَلَقَدْ أَنذَرَهُم بَطْشَتَنَا فَتَمَارَوْا۟ بِٱلنُّذُرِ
لوطؑ نے اپنی قوم کے لوگوں کو ہماری پکڑ سے خبردار کیا مگر وہ ساری تنبیہات کو مشکوک سمجھ کر باتوں میں اڑاتے رہے
وَلَقَدْ رَٰوَدُوهُ عَن ضَيْفِهِۦ فَطَمَسْنَآ أَعْيُنَهُمْ فَذُوقُوا۟ عَذَابِى وَنُذُرِ
پھر انہوں نے اُسے اپنے مہمانوں کی حفاظت سے باز رکھنے کی کوشش کی آخر کار ہم نے اُن کی آنکھیں موند دیں کہ چکھو اب میرے عذاب اور میری تنبیہات کا مزا
وَلَقَدْ صَبَّحَهُم بُكْرَةً عَذَابٌۭ مُّسْتَقِرٌّۭ
صبح سویرے ہی ایک اٹل عذاب نے ان کو آ لیا
فَذُوقُوا۟ عَذَابِى وَنُذُرِ
چکھو مزا اب میرے عذاب کا اور میری تنبیہات کا
وَلَقَدْ يَسَّرْنَا ٱلْقُرْءَانَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِن مُّدَّكِرٍۢ
ہم نے اِس قرآن کو نصیحت کے لیے آسان ذریعہ بنا دیا ہے، پس ہے کوئی نصیحت قبول کرنے والا؟
وَلَقَدْ جَآءَ ءَالَ فِرْعَوْنَ ٱلنُّذُرُ
اور آل فرعون کے پاس بھی تنبیہات آئی تھیں
كَذَّبُوا۟ بِـَٔايَٰتِنَا كُلِّهَا فَأَخَذْنَٰهُمْ أَخْذَ عَزِيزٍۢ مُّقْتَدِرٍ
مگر انہوں نے ہماری ساری نشانیوں کو جھٹلا دیا آخر کو ہم نے انہیں پکڑا جس طرح کوئی زبردست قدرت والا پکڑتا ہے
أَكُفَّارُكُمْ خَيْرٌۭ مِّنْ أُو۟لَٰٓئِكُمْ أَمْ لَكُم بَرَآءَةٌۭ فِى ٱلزُّبُرِ
کیا تمہارے کفار کچھ اُن لوگوں سے بہتر ہیں؟ یا آسمانی کتابوں میں تمہارے لیے کوئی معافی لکھی ہوئی ہے؟
أَمْ يَقُولُونَ نَحْنُ جَمِيعٌۭ مُّنتَصِرٌۭ
یا اِن لوگوں کا کہنا یہ ہے کہ ہم ایک مضبوط جتھا ہیں، اپنا بچاؤ کر لیں گے؟
سَيُهْزَمُ ٱلْجَمْعُ وَيُوَلُّونَ ٱلدُّبُرَ
عنقریب یہ جتھا شکست کھا جائے گا اور یہ سب پیٹھ پھیر کر بھاگتے نظر آئیں گے
بَلِ ٱلسَّاعَةُ مَوْعِدُهُمْ وَٱلسَّاعَةُ أَدْهَىٰ وَأَمَرُّ
بلکہ اِن سے نمٹنے کے لیے اصل وعدے کا وقت تو قیامت ہے اور وہ بڑی آفت اور زیادہ تلخ ساعت ہے
إِنَّ ٱلْمُجْرِمِينَ فِى ضَلَٰلٍۢ وَسُعُرٍۢ
یہ مجرم لوگ در حقیقت غلط فہمی میں میں مبتلا ہیں اور اِن کی عقل ماری گئی ہے
يَوْمَ يُسْحَبُونَ فِى ٱلنَّارِ عَلَىٰ وُجُوهِهِمْ ذُوقُوا۟ مَسَّ سَقَرَ
جس روز یہ منہ کے بل آگ میں گھسیٹے جائیں گے اُس روز اِن سے کہا جائے گا کہ اب چکھو جہنم کی لپٹ کا مزا
إِنَّا كُلَّ شَىْءٍ خَلَقْنَٰهُ بِقَدَرٍۢ
ہم نے ہر چیز ایک تقدیر کے ساتھ پیدا کی ہے
وَمَآ أَمْرُنَآ إِلَّا وَٰحِدَةٌۭ كَلَمْحٍۭ بِٱلْبَصَرِ
اور ہمارا حکم بس ایک ہی حکم ہوتا ہے اور پلک جھپکاتے وہ عمل میں آ جاتا ہے
وَلَقَدْ أَهْلَكْنَآ أَشْيَاعَكُمْ فَهَلْ مِن مُّدَّكِرٍۢ
تم جیسے بہت سوں کو ہم ہلاک کر چکے ہیں، پھر ہے کوئی نصیحت قبول کرنے والا؟
وَكُلُّ شَىْءٍۢ فَعَلُوهُ فِى ٱلزُّبُرِ
جو کچھ اِنہوں نے کیا ہے وہ سب دفتروں میں درج ہے
وَكُلُّ صَغِيرٍۢ وَكَبِيرٍۢ مُّسْتَطَرٌ
اور ہر چھوٹی بڑی بات لکھی ہوئی موجود ہے
إِنَّ ٱلْمُتَّقِينَ فِى جَنَّٰتٍۢ وَنَهَرٍۢ
نافرمانی سے پرہیز کرنے والے یقیناً باغوں اور نہروں میں ہوں گے
فِى مَقْعَدِ صِدْقٍ عِندَ مَلِيكٍۢ مُّقْتَدِرٍۭ
سچی عزت کی جگہ، بڑے ذی اقتدار بادشاہ کے قریب
Surah 55: Ar-Rahman — الرحمن
ٱلرَّحْمَٰنُ
رحمٰن نے
عَلَّمَ ٱلْقُرْءَانَ
اِس قرآن کی تعلیم دی ہے
خَلَقَ ٱلْإِنسَٰنَ
اُسی نے انسان کو پیدا کیا
عَلَّمَهُ ٱلْبَيَانَ
اور اسے بولنا سکھایا
ٱلشَّمْسُ وَٱلْقَمَرُ بِحُسْبَانٍۢ
سورج اور چاند ایک حساب کے پابند ہیں
وَٱلنَّجْمُ وَٱلشَّجَرُ يَسْجُدَانِ
اور تارے اور درخت سب سجدہ ریز ہیں
وَٱلسَّمَآءَ رَفَعَهَا وَوَضَعَ ٱلْمِيزَانَ
آسمان کو اُس نے بلند کیا اور میزان قائم کر دی
أَلَّا تَطْغَوْا۟ فِى ٱلْمِيزَانِ
اِس کا تقاضا یہ ہے کہ تم میزان میں خلل نہ ڈالو
وَأَقِيمُوا۟ ٱلْوَزْنَ بِٱلْقِسْطِ وَلَا تُخْسِرُوا۟ ٱلْمِيزَانَ
انصاف کے ساتھ ٹھیک ٹھیک تولو اور ترازو میں ڈنڈی نہ مارو
وَٱلْأَرْضَ وَضَعَهَا لِلْأَنَامِ
زمین کو اس نے سب مخلوقات کے لیے بنایا
فِيهَا فَٰكِهَةٌۭ وَٱلنَّخْلُ ذَاتُ ٱلْأَكْمَامِ
اس میں ہر طرح کے بکثرت لذیذ پھل ہیں کھجور کے درخت ہیں جن کے پھل غلافوں میں لپٹے ہوئے ہیں
وَٱلْحَبُّ ذُو ٱلْعَصْفِ وَٱلرَّيْحَانُ
طرح طرح کے غلے ہیں جن میں بھوسا بھی ہوتا ہے اور دانہ بھی
فَبِأَىِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ
پس اے جن و انس، تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟
خَلَقَ ٱلْإِنسَٰنَ مِن صَلْصَٰلٍۢ كَٱلْفَخَّارِ
انسان کو اُس نے ٹھیکری جیسے سوکھے سڑے ہوئے گارے سے بنایا
وَخَلَقَ ٱلْجَآنَّ مِن مَّارِجٍۢ مِّن نَّارٍۢ
اور جن کو آگ کی لپٹ سے پیدا کیا
فَبِأَىِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ
پس اے جن و انس، تم اپنے رب کے کن کن عجائب قدرت کو جھٹلاؤ گے؟
رَبُّ ٱلْمَشْرِقَيْنِ وَرَبُّ ٱلْمَغْرِبَيْنِ
دونوں مشرق اور دونوں مغرب، سب کا مالک و پروردگار وہی ہے
فَبِأَىِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ
پس اے جن و انس، تم اپنے رب کی کن کن قدرتوں کو جھٹلاؤ گے؟
مَرَجَ ٱلْبَحْرَيْنِ يَلْتَقِيَانِ
دو سمندروں کو اس نے چھوڑ دیا کہ باہم مل جائیں
بَيْنَهُمَا بَرْزَخٌۭ لَّا يَبْغِيَانِ
پھر بھی اُن کے درمیان ایک پردہ حائل ہے جس سے وہ تجاوز نہیں کرتے
فَبِأَىِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ
پس اے جن و انس، تم اپنے رب کی قدرت کے کن کن کرشموں کو جھٹلاؤ گے؟
يَخْرُجُ مِنْهُمَا ٱللُّؤْلُؤُ وَٱلْمَرْجَانُ
اِن سمندروں سے موتی اور مونگے نکلتے ہیں
فَبِأَىِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ
پس اے جن و انس، تم اپنے رب کی قدرت کے کن کن کمالات کو جھٹلاؤ گے؟
وَلَهُ ٱلْجَوَارِ ٱلْمُنشَـَٔاتُ فِى ٱلْبَحْرِ كَٱلْأَعْلَٰمِ
اور یہ جہاز اُسی کے ہیں جو سمندر میں پہاڑوں کی طرح اونچے اٹھے ہوئے ہیں
فَبِأَىِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ
پس اے جن و انس، تم اپنے رب کے کن کن احسانات کو جھٹلاؤ گے؟
كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانٍۢ
ہر چیز جو اس زمین پر ہے فنا ہو جانے والی ہے
وَيَبْقَىٰ وَجْهُ رَبِّكَ ذُو ٱلْجَلَٰلِ وَٱلْإِكْرَامِ
اور صرف تیرے رب کی جلیل و کریم ذات ہی باقی رہنے والی ہے
فَبِأَىِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ
پس اے جن و انس، تم اپنے رب کے کن کن کمالات کو جھٹلاؤ گے؟
يَسْـَٔلُهُۥ مَن فِى ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ ۚ كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِى شَأْنٍۢ
زمین اور آسمانوں میں جو بھی ہیں سب اپنی حاجتیں اُسی سے مانگ رہے ہیں ہر آن وہ نئی شان میں ہے
فَبِأَىِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ
پس اے جن و انس، تم اپنے رب کی کن کن صفات حمیدہ کو جھٹلاؤ گے؟
سَنَفْرُغُ لَكُمْ أَيُّهَ ٱلثَّقَلَانِ
اے زمین کے بوجھو، عنقریب ہم تم سے باز پرس کرنے کے لیے فارغ ہوئے جاتے ہیں
فَبِأَىِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ
(پھر دیکھ لیں گے کہ) تم اپنے رب کے کن کن احسانات کو جھٹلاتے ہو
يَٰمَعْشَرَ ٱلْجِنِّ وَٱلْإِنسِ إِنِ ٱسْتَطَعْتُمْ أَن تَنفُذُوا۟ مِنْ أَقْطَارِ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ فَٱنفُذُوا۟ ۚ لَا تَنفُذُونَ إِلَّا بِسُلْطَٰنٍۢ
اے گروہ جن و انس، گر تم زمین اور آسمانوں کی سرحدوں سے نکل کر بھاگ سکتے ہو تو بھاگ دیکھو نہیں بھاگ سکتے اِس کے لیے بڑا زور چاہیے
فَبِأَىِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ
اپنے رب کی کن کن قدرتوں کو تم جھٹلاؤ گے؟
يُرْسَلُ عَلَيْكُمَا شُوَاظٌۭ مِّن نَّارٍۢ وَنُحَاسٌۭ فَلَا تَنتَصِرَانِ
(بھاگنے کی کوشش کرو گے تو) تم پر آگ کا شعلہ اور دھواں چھوڑ دیا جائے گا جس کا تم مقابلہ نہ کر سکو گے
فَبِأَىِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ
اے جن و انس، تم اپنے رب کی کن کن قدرتوں کا انکار کرو گے؟
فَإِذَا ٱنشَقَّتِ ٱلسَّمَآءُ فَكَانَتْ وَرْدَةًۭ كَٱلدِّهَانِ
پھر (کیا بنے گی اُس وقت) جب آسمان پھٹے گا اور لال چمڑے کی طرح سرخ ہو جائے گا؟
فَبِأَىِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ
اے جن و انس (اُس وقت) تم اپنے رب کی کن کن قدرتوں کو جھٹلاؤ گے؟
فَيَوْمَئِذٍۢ لَّا يُسْـَٔلُ عَن ذَنۢبِهِۦٓ إِنسٌۭ وَلَا جَآنٌّۭ
اُس روز کسی انسان اور کسی جن سے اُس کا گناہ پوچھنے کی ضرورت نہ ہوگی
فَبِأَىِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ
پھر (دیکھ لیا جائے گا کہ) تم دونوں گروہ اپنے رب کے کن کن احسانات کا انکار کرتے ہو
يُعْرَفُ ٱلْمُجْرِمُونَ بِسِيمَٰهُمْ فَيُؤْخَذُ بِٱلنَّوَٰصِى وَٱلْأَقْدَامِ
مجرم وہاں اپنے چہروں سے پہچان لیے جائیں گے اور انہیں پیشانی کے بال اور پاؤں پکڑ پکڑ کر گھسیٹا جائے گا
فَبِأَىِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ
اُس وقت تم اپنے رب کی کن کن قدرتوں کو جھٹلاؤ گے؟
هَٰذِهِۦ جَهَنَّمُ ٱلَّتِى يُكَذِّبُ بِهَا ٱلْمُجْرِمُونَ
(اُس وقت کہا جائے گا) یہ وہی جہنم ہے جس کو مجرمین جھوٹ قرار دیا کرتے تھے
يَطُوفُونَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ حَمِيمٍ ءَانٍۢ
اُسی جہنم اور کھولتے ہوئے پانی کے درمیان وہ گردش کرتے رہیں گے
فَبِأَىِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ
پھر اپنے رب کی کن کن قدرتوں کو تم جھٹلاؤ گے؟
وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِۦ جَنَّتَانِ
اور ہر اُس شخص کے لیے جو اپنے رب کے حضور پیش ہونے کا خوف رکھتا ہو، دو باغ ہیں
فَبِأَىِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ
اپنے رب کے کن کن انعامات کو تم جھٹلاؤ گے؟
ذَوَاتَآ أَفْنَانٍۢ
ہری بھری ڈالیوں سے بھرپور
فَبِأَىِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ
اپنے رب کے کن کن انعامات کو تم جھٹلاؤ گے؟
فِيهِمَا عَيْنَانِ تَجْرِيَانِ
دونوں باغوں میں دو چشمے رواں
فَبِأَىِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ
اپنے رب کے کن کن انعامات کو تم جھٹلاؤ گے؟
فِيهِمَا مِن كُلِّ فَٰكِهَةٍۢ زَوْجَانِ
دونوں باغوں میں ہر پھل کی دو قسمیں
فَبِأَىِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ
اپنے رب کے کن کن انعامات کو تم جھٹلاؤ گے؟
مُتَّكِـِٔينَ عَلَىٰ فُرُشٍۭ بَطَآئِنُهَا مِنْ إِسْتَبْرَقٍۢ ۚ وَجَنَى ٱلْجَنَّتَيْنِ دَانٍۢ
جنتی لوگ ایسے فرشوں پر تکیے لگا کے بیٹھیں گے جن کے استر دبیز ریشم کے ہوں گے، اور باغوں کی ڈالیاں پھلوں سے جھکی پڑ رہی ہوں گی
فَبِأَىِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ
اپنے رب کے کن کن انعامات کو تم جھٹلاؤ گے؟
فِيهِنَّ قَٰصِرَٰتُ ٱلطَّرْفِ لَمْ يَطْمِثْهُنَّ إِنسٌۭ قَبْلَهُمْ وَلَا جَآنٌّۭ
اِن نعمتوں کے درمیان شرمیلی نگاہوں والیاں ہوں گی جنہیں اِن جنتیوں سے پہلے کسی انسان یا جن نے چھوا نہ ہوگا
فَبِأَىِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ
اپنے رب کے کن کن انعامات کو تم جھٹلاؤ گے؟
كَأَنَّهُنَّ ٱلْيَاقُوتُ وَٱلْمَرْجَانُ
ایسی خوبصورت جیسے ہیرے اور موتی
فَبِأَىِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ
اپنے رب کے کن کن انعامات کو تم جھٹلاؤ گے؟
هَلْ جَزَآءُ ٱلْإِحْسَٰنِ إِلَّا ٱلْإِحْسَٰنُ
نیکی کا بدلہ نیکی کے سوا اور کیا ہو سکتا ہے
فَبِأَىِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ
پھر اے جن و انس، اپنے رب کے کن کن اوصاف حمیدہ کا تم انکار کرو گے؟
وَمِن دُونِهِمَا جَنَّتَانِ
اور اُن دو باغوں کے علاوہ دو باغ اور ہوں گے
فَبِأَىِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ
اپنے رب کے کن کن انعامات کو تم جھٹلاؤ گے؟
مُدْهَآمَّتَانِ
گھنے سرسبز و شاداب باغ
فَبِأَىِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ
اپنے رب کے کن کن انعامات کو تم جھٹلاؤ گے؟
فِيهِمَا عَيْنَانِ نَضَّاخَتَانِ
دونوں باغوں میں دو چشمے فواروں کی طرح ابلتے ہوئے
فَبِأَىِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ
اپنے رب کے کن کن انعامات کو تم جھٹلاؤ گے؟
فِيهِمَا فَٰكِهَةٌۭ وَنَخْلٌۭ وَرُمَّانٌۭ
اُن میں بکثرت پھل اور کھجوریں اور انار
فَبِأَىِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ
اپنے رب کے کن کن انعامات کو تم جھٹلاؤ گے؟
فِيهِنَّ خَيْرَٰتٌ حِسَانٌۭ
اِن نعمتوں کے درمیان خوب سیرت اور خوبصورت بیویاں
فَبِأَىِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ
اپنے رب کے کن کن انعامات کو تم جھٹلاؤ گے؟
حُورٌۭ مَّقْصُورَٰتٌۭ فِى ٱلْخِيَامِ
خیموں میں ٹھیرائی ہوئی حوریں
فَبِأَىِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ
اپنے رب کے کن کن انعامات کو تم جھٹلاؤ گے؟
لَمْ يَطْمِثْهُنَّ إِنسٌۭ قَبْلَهُمْ وَلَا جَآنٌّۭ
اِن جنتیوں سے پہلے کبھی انسان یا جن نے اُن کو نہ چھوا ہوگا
فَبِأَىِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ
اپنے رب کے کن کن انعامات کو تم جھٹلاؤ گے؟
مُتَّكِـِٔينَ عَلَىٰ رَفْرَفٍ خُضْرٍۢ وَعَبْقَرِىٍّ حِسَانٍۢ
وہ جنتی سبز قالینوں اور نفیس و نادر فرشوں پر تکیے لگا کے بیٹھیں گے
فَبِأَىِّ ءَالَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ
اپنے رب کے کن کن انعامات کو تم جھٹلاؤ گے؟
تَبَٰرَكَ ٱسْمُ رَبِّكَ ذِى ٱلْجَلَٰلِ وَٱلْإِكْرَامِ
بڑی برکت والا ہے تیرے رب جلیل و کریم کا نام
Surah 56: Al-Waqia — الواقعة
إِذَا وَقَعَتِ ٱلْوَاقِعَةُ
جب وہ ہونے والا واقعہ پیش آ جائے گا
لَيْسَ لِوَقْعَتِهَا كَاذِبَةٌ
تو کوئی اس کے وقوع کو جھٹلانے والا نہ ہوگا
خَافِضَةٌۭ رَّافِعَةٌ
وہ تہ و بالا کر دینے والی آفت ہوگی
إِذَا رُجَّتِ ٱلْأَرْضُ رَجًّۭا
زمین اس وقت یکبارگی ہلا ڈالی جائے گی
وَبُسَّتِ ٱلْجِبَالُ بَسًّۭا
اور پہاڑ اس طرح ریزہ ریزہ کر دیے جائیں گے
فَكَانَتْ هَبَآءًۭ مُّنۢبَثًّۭا
کہ پراگندہ غبار بن کر رہ جائیں گے
وَكُنتُمْ أَزْوَٰجًۭا ثَلَٰثَةًۭ
تم لوگ اُس وقت تین گروہوں میں تقسیم ہو جاؤ گے
فَأَصْحَٰبُ ٱلْمَيْمَنَةِ مَآ أَصْحَٰبُ ٱلْمَيْمَنَةِ
دائیں بازو والے، سو دائیں بازو والوں (کی خوش نصیبی) کا کیا کہنا
وَأَصْحَٰبُ ٱلْمَشْـَٔمَةِ مَآ أَصْحَٰبُ ٱلْمَشْـَٔمَةِ
اور بائیں بازو والے، تو بائیں بازو والوں (کی بد نصیبی کا) کا کیا ٹھکانا
وَٱلسَّٰبِقُونَ ٱلسَّٰبِقُونَ
اور آگے والے تو پھر آگے وا لے ہی ہیں
أُو۟لَٰٓئِكَ ٱلْمُقَرَّبُونَ
وہی تو مقرب لوگ ہیں
فِى جَنَّٰتِ ٱلنَّعِيمِ
نعمت بھری جنتوں میں رہیں گے
ثُلَّةٌۭ مِّنَ ٱلْأَوَّلِينَ
اگلوں میں سے بہت ہوں گے
وَقَلِيلٌۭ مِّنَ ٱلْءَاخِرِينَ
اور پچھلوں میں سے کم
عَلَىٰ سُرُرٍۢ مَّوْضُونَةٍۢ
مرصع تختوں پر
مُّتَّكِـِٔينَ عَلَيْهَا مُتَقَٰبِلِينَ
تکیے لگا ئے آمنے سامنے بیٹھیں گے
يَطُوفُ عَلَيْهِمْ وِلْدَٰنٌۭ مُّخَلَّدُونَ
اُن کی مجلسوں میں ابدی لڑکے شراب چشمہ جاری سے
بِأَكْوَابٍۢ وَأَبَارِيقَ وَكَأْسٍۢ مِّن مَّعِينٍۢ
لبریز پیالے کنٹر اور ساغر لیے دوڑتے پھرتے ہونگے
لَّا يُصَدَّعُونَ عَنْهَا وَلَا يُنزِفُونَ
جسے پی کر نہ اُن کا سر چکرائے گا نہ ان کی عقل میں فتور آئے گا
وَفَٰكِهَةٍۢ مِّمَّا يَتَخَيَّرُونَ
اور وہ اُن کے سامنے طرح طرح کے لذیذ پھل پیش کریں گے جسے چاہیں چن لیں
وَلَحْمِ طَيْرٍۢ مِّمَّا يَشْتَهُونَ
اور پرندوں کے گوشت پیش کریں گے کہ جس پرندے کا چاہیں استعمال کریں
وَحُورٌ عِينٌۭ
اور ان کے لیے خوبصورت آنکھوں والی حوریں ہونگی
كَأَمْثَٰلِ ٱللُّؤْلُؤِ ٱلْمَكْنُونِ
ایسی حسین جیسے چھپا کر رکھے ہوئے موتی
جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوا۟ يَعْمَلُونَ
یہ سب کچھ اُن اعمال کی جزا کے طور پر انہیں ملے گا جو وہ دنیا میں کرتے رہے تھے
لَا يَسْمَعُونَ فِيهَا لَغْوًۭا وَلَا تَأْثِيمًا
وہاں وہ کوئی بیہودہ کلام یا گناہ کی بات نہ سنیں گے
إِلَّا قِيلًۭا سَلَٰمًۭا سَلَٰمًۭا
جو بات بھی ہوگی ٹھیک ٹھیک ہوگی
وَأَصْحَٰبُ ٱلْيَمِينِ مَآ أَصْحَٰبُ ٱلْيَمِينِ
اور دائیں بازو والے، دائیں بازو والوں کی خوش نصیبی کا کیا کہنا
فِى سِدْرٍۢ مَّخْضُودٍۢ
وہ بے خار بیریوں
وَطَلْحٍۢ مَّنضُودٍۢ
اور تہ بر تہ چڑھے ہوئے کیلوں
وَظِلٍّۢ مَّمْدُودٍۢ
اور دور تک پھیلی ہوئی چھاؤں
وَمَآءٍۢ مَّسْكُوبٍۢ
اور ہر دم رواں پانی
وَفَٰكِهَةٍۢ كَثِيرَةٍۢ
اور کبھی ختم نہ ہونے والے
لَّا مَقْطُوعَةٍۢ وَلَا مَمْنُوعَةٍۢ
اور بے روک ٹوک ملنے والے بکثرت پھلوں
وَفُرُشٍۢ مَّرْفُوعَةٍ
اور اونچی نشست گاہوں میں ہوں گے
إِنَّآ أَنشَأْنَٰهُنَّ إِنشَآءًۭ
ان کی بیویوں کو ہم خاص طور پر نئے سرے سے پیدا کریں گے
فَجَعَلْنَٰهُنَّ أَبْكَارًا
اور انہیں با کرہ بنا دیں گے
عُرُبًا أَتْرَابًۭا
اپنے شوہروں کی عاشق اور عمر میں ہم سن
لِّأَصْحَٰبِ ٱلْيَمِينِ
یہ کچھ دائیں بازو والوں کے لیے ہے
ثُلَّةٌۭ مِّنَ ٱلْأَوَّلِينَ
وہ اگلوں میں سے بہت ہوں گے
وَثُلَّةٌۭ مِّنَ ٱلْءَاخِرِينَ
اور پچھلوں میں سے بھی بہت
وَأَصْحَٰبُ ٱلشِّمَالِ مَآ أَصْحَٰبُ ٱلشِّمَالِ
اور بائیں بازو والے، بائیں بازو والوں کی بد نصیبی کا کیا پوچھنا
فِى سَمُومٍۢ وَحَمِيمٍۢ
وہ لو کی لپٹ اور کھولتے ہوئے پانی
وَظِلٍّۢ مِّن يَحْمُومٍۢ
اور کالے دھوئیں کے سائے میں ہوں گے
لَّا بَارِدٍۢ وَلَا كَرِيمٍ
جو نہ ٹھنڈا ہوگا نہ آرام دہ
إِنَّهُمْ كَانُوا۟ قَبْلَ ذَٰلِكَ مُتْرَفِينَ
یہ وہ لوگ ہوں گے جو اِس انجام کو پہنچنے سے پہلے خوشحال تھے
وَكَانُوا۟ يُصِرُّونَ عَلَى ٱلْحِنثِ ٱلْعَظِيمِ
اور گناہ عظیم پر اصرار کرتے تھے
وَكَانُوا۟ يَقُولُونَ أَئِذَا مِتْنَا وَكُنَّا تُرَابًۭا وَعِظَٰمًا أَءِنَّا لَمَبْعُوثُونَ
کہتے تھے "کیا جب ہم مر کر خاک ہو جائیں گے اور ہڈیوں کا پنجر رہ جائیں گے تو پھر اٹھا کھڑے کیے جائیں گے؟
أَوَءَابَآؤُنَا ٱلْأَوَّلُونَ
اور کیا ہمارے وہ باپ دادا بھی اٹھائے جائیں گے جو پہلے گزر چکے ہیں؟"
قُلْ إِنَّ ٱلْأَوَّلِينَ وَٱلْءَاخِرِينَ
اے نبیؐ، اِن لوگوں سے کہو، یقیناً اگلے اور پچھلے سب
لَمَجْمُوعُونَ إِلَىٰ مِيقَٰتِ يَوْمٍۢ مَّعْلُومٍۢ
ایک دن ضرور جمع کیے جانے والے ہیں جس کا وقت مقرر کیا جا چکا ہے
ثُمَّ إِنَّكُمْ أَيُّهَا ٱلضَّآلُّونَ ٱلْمُكَذِّبُونَ
پھر اے گمراہو اور جھٹلانے والو!
لَءَاكِلُونَ مِن شَجَرٍۢ مِّن زَقُّومٍۢ
تم شجر زقوم کی غذا کھانے والے ہو
فَمَالِـُٔونَ مِنْهَا ٱلْبُطُونَ
اُسی سے تم پیٹ بھرو گے
فَشَٰرِبُونَ عَلَيْهِ مِنَ ٱلْحَمِيمِ
اور اوپر سے کھولتا ہوا پانی
فَشَٰرِبُونَ شُرْبَ ٱلْهِيمِ
تونس لگے ہوئے اونٹ کی طرح پیو گے
هَٰذَا نُزُلُهُمْ يَوْمَ ٱلدِّينِ
یہ ہے بائیں والوں کی ضیافت کا سامان روز جزا میں
نَحْنُ خَلَقْنَٰكُمْ فَلَوْلَا تُصَدِّقُونَ
ہم نے تمہیں پیدا کیا ہے پھر کیوں تصدیق نہیں کرتے؟
أَفَرَءَيْتُم مَّا تُمْنُونَ
کبھی تم نے غور کیا، یہ نطفہ جو تم ڈالتے ہو
ءَأَنتُمْ تَخْلُقُونَهُۥٓ أَمْ نَحْنُ ٱلْخَٰلِقُونَ
اس سے بچہ تم بناتے ہو یا اس کے بنانے والے ہم ہیں؟
نَحْنُ قَدَّرْنَا بَيْنَكُمُ ٱلْمَوْتَ وَمَا نَحْنُ بِمَسْبُوقِينَ
ہم نے تمہارے درمیان موت کو تقسیم کیا ہے، اور ہم اِس سے عاجز نہیں ہیں
عَلَىٰٓ أَن نُّبَدِّلَ أَمْثَٰلَكُمْ وَنُنشِئَكُمْ فِى مَا لَا تَعْلَمُونَ
کہ تمہاری شکلیں بدل دیں اور کسی ایسی شکل میں تمہیں پیدا کر دیں جس کو تم نہیں جانتے
وَلَقَدْ عَلِمْتُمُ ٱلنَّشْأَةَ ٱلْأُولَىٰ فَلَوْلَا تَذَكَّرُونَ
اپنی پہلی پیدائش کو تو تم جانتے ہو، پھر کیوں سبق نہیں لیتے؟
أَفَرَءَيْتُم مَّا تَحْرُثُونَ
کبھی تم نے سوچا، یہ بیج جو تم بوتے ہو
ءَأَنتُمْ تَزْرَعُونَهُۥٓ أَمْ نَحْنُ ٱلزَّٰرِعُونَ
اِن سے کھیتیاں تم اگاتے ہو یا اُن کے اگانے والے ہم ہیں؟
لَوْ نَشَآءُ لَجَعَلْنَٰهُ حُطَٰمًۭا فَظَلْتُمْ تَفَكَّهُونَ
ہم چاہیں تو ان کھیتیوں کو بھس بنا کر رکھ دیں اور تم طرح طرح کی باتیں بناتے رہ جاؤ
إِنَّا لَمُغْرَمُونَ
کہ ہم پر تو الٹی چٹی پڑ گئی
بَلْ نَحْنُ مَحْرُومُونَ
بلکہ ہمارے تو نصیب ہی پھوٹے ہوئے ہیں
أَفَرَءَيْتُمُ ٱلْمَآءَ ٱلَّذِى تَشْرَبُونَ
کبھی تم نے آنکھیں کھول کر دیکھا، یہ پانی جو تم پیتے ہو
ءَأَنتُمْ أَنزَلْتُمُوهُ مِنَ ٱلْمُزْنِ أَمْ نَحْنُ ٱلْمُنزِلُونَ
اِسے تم نے بادل سے برسایا ہے یا اِس کے برسانے والے ہم ہیں؟
لَوْ نَشَآءُ جَعَلْنَٰهُ أُجَاجًۭا فَلَوْلَا تَشْكُرُونَ
ہم چاہیں تو اسے سخت کھاری بنا کر رکھ دیں، پھر کیوں تم شکر گزار نہیں ہوتے؟
أَفَرَءَيْتُمُ ٱلنَّارَ ٱلَّتِى تُورُونَ
کبھی تم نے خیال کیا، یہ آگ جو تم سلگاتے ہو
ءَأَنتُمْ أَنشَأْتُمْ شَجَرَتَهَآ أَمْ نَحْنُ ٱلْمُنشِـُٔونَ
اِس کا درخت تم نے پیدا کیا ہے، یا اس کے پیدا کرنے والے ہم ہیں؟
نَحْنُ جَعَلْنَٰهَا تَذْكِرَةًۭ وَمَتَٰعًۭا لِّلْمُقْوِينَ
ہم نے اُس کو یاد دہانی کا ذریعہ اور حاجت مندوں کے لیے سامان زیست بنایا ہے
فَسَبِّحْ بِٱسْمِ رَبِّكَ ٱلْعَظِيمِ
پس اے نبیؐ، اپنے رب عظیم کے نام کی تسبیح کرو
۞ فَلَآ أُقْسِمُ بِمَوَٰقِعِ ٱلنُّجُومِ
پس نہیں، میں قسم کھاتا ہوں تاروں کے مواقع کی
وَإِنَّهُۥ لَقَسَمٌۭ لَّوْ تَعْلَمُونَ عَظِيمٌ
اور اگر تم سمجھو تو یہ بہت بڑی قسم ہے
إِنَّهُۥ لَقُرْءَانٌۭ كَرِيمٌۭ
کہ یہ ایک بلند پایہ قرآن ہے
فِى كِتَٰبٍۢ مَّكْنُونٍۢ
ایک محفوظ کتاب میں ثبت
لَّا يَمَسُّهُۥٓ إِلَّا ٱلْمُطَهَّرُونَ
جسے مطہرین کے سوا کوئی چھو نہیں سکتا
تَنزِيلٌۭ مِّن رَّبِّ ٱلْعَٰلَمِينَ
یہ رب العالمین کا نازل کردہ ہے
أَفَبِهَٰذَا ٱلْحَدِيثِ أَنتُم مُّدْهِنُونَ
پھر کیا اس کلام کے ساتھ تم بے اعتنائی برتتے ہو
وَتَجْعَلُونَ رِزْقَكُمْ أَنَّكُمْ تُكَذِّبُونَ
اور اِس نعمت میں اپنا حصہ تم نے یہ رکھا ہے کہ اِسے جھٹلاتے ہو؟
فَلَوْلَآ إِذَا بَلَغَتِ ٱلْحُلْقُومَ
تو جب مرنے والے کی جان حلق تک پہنچ چکی ہوتی ہے
وَأَنتُمْ حِينَئِذٍۢ تَنظُرُونَ
اور تم آنکھوں سے دیکھ رہے ہوتے ہو کہ وہ مر رہا ہے،
وَنَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنكُمْ وَلَٰكِن لَّا تُبْصِرُونَ
اُس وقت تمہاری بہ نسبت ہم اُس کے زیادہ قریب ہوتے ہیں مگر تم کو نظر نہیں آتے
فَلَوْلَآ إِن كُنتُمْ غَيْرَ مَدِينِينَ
اب اگر تم کسی کے محکوم نہیں ہو اور اپنے اِس خیال میں سچے ہو،
تَرْجِعُونَهَآ إِن كُنتُمْ صَٰدِقِينَ
اُس وقت اُس کی نکلتی ہوئی جان کو واپس کیوں نہیں لے آتے؟
فَأَمَّآ إِن كَانَ مِنَ ٱلْمُقَرَّبِينَ
پھر وہ مرنے والا اگر مقربین میں سے ہو
فَرَوْحٌۭ وَرَيْحَانٌۭ وَجَنَّتُ نَعِيمٍۢ
تو اس کے لیے راحت اور عمدہ رزق اور نعمت بھری جنت ہے
وَأَمَّآ إِن كَانَ مِنْ أَصْحَٰبِ ٱلْيَمِينِ
اور اگر وہ اصحاب یمین میں سے ہو
فَسَلَٰمٌۭ لَّكَ مِنْ أَصْحَٰبِ ٱلْيَمِينِ
تو اس کا استقبال یوں ہوتا ہے کہ سلام ہے تجھے، تو اصحاب الیمین میں سے ہے
وَأَمَّآ إِن كَانَ مِنَ ٱلْمُكَذِّبِينَ ٱلضَّآلِّينَ
اور اگر وہ جھٹلانے والے گمراہ لوگوں میں سے ہو
فَنُزُلٌۭ مِّنْ حَمِيمٍۢ
تو اس کی تواضع کے لیے کھولتا ہوا پانی ہے
وَتَصْلِيَةُ جَحِيمٍ
اور جہنم میں جھونکا جانا
إِنَّ هَٰذَا لَهُوَ حَقُّ ٱلْيَقِينِ
یہ سب کچھ قطعی حق ہے
فَسَبِّحْ بِٱسْمِ رَبِّكَ ٱلْعَظِيمِ
پس اے نبیؐ، اپنے رب عظیم کے نام کی تسبیح کرو
Surah 57: Al-Hadid — الحديد
سَبَّحَ لِلَّهِ مَا فِى ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ ۖ وَهُوَ ٱلْعَزِيزُ ٱلْحَكِيمُ
اللہ کی تسبیح کی ہے ہر اُس چیز نے جو زمین اور آسمانوں میں ہے، اور وہی زبردست دانا ہے
لَهُۥ مُلْكُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ ۖ يُحْىِۦ وَيُمِيتُ ۖ وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍۢ قَدِيرٌ
زمین اور آسمانوں کی سلطنت کا مالک وہی ہے، زندگی بخشتا ہے اور موت دیتا ہے، اور ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے
هُوَ ٱلْأَوَّلُ وَٱلْءَاخِرُ وَٱلظَّٰهِرُ وَٱلْبَاطِنُ ۖ وَهُوَ بِكُلِّ شَىْءٍ عَلِيمٌ
وہی اول بھی ہے اور آخر بھی، ظاہر بھی ہے اور مخفی بھی، اور وہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے
هُوَ ٱلَّذِى خَلَقَ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضَ فِى سِتَّةِ أَيَّامٍۢ ثُمَّ ٱسْتَوَىٰ عَلَى ٱلْعَرْشِ ۚ يَعْلَمُ مَا يَلِجُ فِى ٱلْأَرْضِ وَمَا يَخْرُجُ مِنْهَا وَمَا يَنزِلُ مِنَ ٱلسَّمَآءِ وَمَا يَعْرُجُ فِيهَا ۖ وَهُوَ مَعَكُمْ أَيْنَ مَا كُنتُمْ ۚ وَٱللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌۭ
وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا اور پھر عرش پر جلوہ فرما ہوا اُس کے علم میں ہے جو کچھ زمین میں جاتا ہے اور جو کچھ اس سے نکلتا ہے اور جو کچھ آسمان سے اترتا ہے اور جو کچھ اُس میں چڑھتا ہے وہ تمہارے ساتھ ہے جہاں بھی تم ہو جو کام بھی کرتے ہو اسے وہ دیکھ رہا ہے
لَّهُۥ مُلْكُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ ۚ وَإِلَى ٱللَّهِ تُرْجَعُ ٱلْأُمُورُ
وہی زمین اور آسمانوں کی بادشاہی کا مالک ہے اور تمام معاملات فیصلے کے لیے اُسی کی طرف رجوع کیے جاتے ہیں
يُولِجُ ٱلَّيْلَ فِى ٱلنَّهَارِ وَيُولِجُ ٱلنَّهَارَ فِى ٱلَّيْلِ ۚ وَهُوَ عَلِيمٌۢ بِذَاتِ ٱلصُّدُورِ
وہی رات کو دن میں اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے، اور دلوں کے چھپے ہوئے راز تک جانتا ہے
ءَامِنُوا۟ بِٱللَّهِ وَرَسُولِهِۦ وَأَنفِقُوا۟ مِمَّا جَعَلَكُم مُّسْتَخْلَفِينَ فِيهِ ۖ فَٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ مِنكُمْ وَأَنفَقُوا۟ لَهُمْ أَجْرٌۭ كَبِيرٌۭ
ایمان لاؤ اللہ اور اس کے رسول پر اور خرچ کرو اُن چیزوں میں سے جن پر اس نے تم کو خلیفہ بنایا ہے جو لوگ تم میں سے ایمان لائیں گے اور مال خرچ کریں گے ان کے لیے بڑا اجر ہے
وَمَا لَكُمْ لَا تُؤْمِنُونَ بِٱللَّهِ ۙ وَٱلرَّسُولُ يَدْعُوكُمْ لِتُؤْمِنُوا۟ بِرَبِّكُمْ وَقَدْ أَخَذَ مِيثَٰقَكُمْ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ
تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ تم اللہ پر ایمان نہیں لاتے حالانکہ رسول تمہیں اپنے رب پر ایمان لانے کی دعوت دے رہا ہے اور وہ تم سے عہد لے چکا ہے اگر تم واقعی ماننے والے ہو
هُوَ ٱلَّذِى يُنَزِّلُ عَلَىٰ عَبْدِهِۦٓ ءَايَٰتٍۭ بَيِّنَٰتٍۢ لِّيُخْرِجَكُم مِّنَ ٱلظُّلُمَٰتِ إِلَى ٱلنُّورِ ۚ وَإِنَّ ٱللَّهَ بِكُمْ لَرَءُوفٌۭ رَّحِيمٌۭ
وہ اللہ ہی تو ہے جو اپنے بندے پر صاف صاف آیتیں نازل کر رہا ہے تاکہ تمہیں تاریکیوں سے نکال کر روشنی میں لے آئے، اور حقیقت یہ ہے کہ اللہ تم پر نہایت شفیق اور مہربان ہے
وَمَا لَكُمْ أَلَّا تُنفِقُوا۟ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ وَلِلَّهِ مِيرَٰثُ ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ ۚ لَا يَسْتَوِى مِنكُم مَّنْ أَنفَقَ مِن قَبْلِ ٱلْفَتْحِ وَقَٰتَلَ ۚ أُو۟لَٰٓئِكَ أَعْظَمُ دَرَجَةًۭ مِّنَ ٱلَّذِينَ أَنفَقُوا۟ مِنۢ بَعْدُ وَقَٰتَلُوا۟ ۚ وَكُلًّۭا وَعَدَ ٱللَّهُ ٱلْحُسْنَىٰ ۚ وَٱللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌۭ
آخر کیا وجہ ہے کہ تم اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے حالانکہ زمین اور آسمانوں کی میراث اللہ ہی کے لیے ہے تم میں سے جو لوگ فتح کے بعد خرچ اور جہاد کریں گے وہ کبھی اُن لوگوں کے برابر نہیں ہو سکتے جنہوں نے فتح سے پہلے خرچ اور جہاد کیا ہے اُن کا درجہ بعد میں خرچ اور جہاد کرنے والوں سے بڑھ کر ہے اگرچہ اللہ نے دونوں ہی سے اچھے وعدے فرمائے ہیں جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے با خبر ہے
مَّن ذَا ٱلَّذِى يُقْرِضُ ٱللَّهَ قَرْضًا حَسَنًۭا فَيُضَٰعِفَهُۥ لَهُۥ وَلَهُۥٓ أَجْرٌۭ كَرِيمٌۭ
کون ہے جو اللہ کو قرض دے؟ اچھا قرض، تاکہ اللہ اسے کئی گنا بڑھا کر واپس دے، اور اُس کے لیے بہترین اجر ہے
يَوْمَ تَرَى ٱلْمُؤْمِنِينَ وَٱلْمُؤْمِنَٰتِ يَسْعَىٰ نُورُهُم بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَبِأَيْمَٰنِهِم بُشْرَىٰكُمُ ٱلْيَوْمَ جَنَّٰتٌۭ تَجْرِى مِن تَحْتِهَا ٱلْأَنْهَٰرُ خَٰلِدِينَ فِيهَا ۚ ذَٰلِكَ هُوَ ٱلْفَوْزُ ٱلْعَظِيمُ
اُس دن جبکہ تم مومن مردوں اور عورتوں کو دیکھو گے کہ ان کا نور اُن کے آگے آگے اور ان کے دائیں جانب دوڑ رہا ہوگا (ان سے کہا جائے گا کہ) "آج بشارت ہے تمہارے لیے" جنتیں ہونگی جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہونگی، جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے یہی ہے بڑی کامیابی
يَوْمَ يَقُولُ ٱلْمُنَٰفِقُونَ وَٱلْمُنَٰفِقَٰتُ لِلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ ٱنظُرُونَا نَقْتَبِسْ مِن نُّورِكُمْ قِيلَ ٱرْجِعُوا۟ وَرَآءَكُمْ فَٱلْتَمِسُوا۟ نُورًۭا فَضُرِبَ بَيْنَهُم بِسُورٍۢ لَّهُۥ بَابٌۢ بَاطِنُهُۥ فِيهِ ٱلرَّحْمَةُ وَظَٰهِرُهُۥ مِن قِبَلِهِ ٱلْعَذَابُ
اُس روز منافق مردوں اور عورتوں کا حال یہ ہوگا کہ وہ مومنوں سے کہیں گے ذرا ہماری طرف دیکھو تاکہ ہم تمہارے نور سے کچھ فائدہ اٹھائیں، مگر ان سے کہا جائے گا پیچھے ہٹ جاؤ، اپنا نور کہیں اور تلاش کرو پھر ان کے درمیان ایک دیوار حائل کر دی جائے گی جس میں ایک دروازہ ہوگا اُس دروازے کے اندر رحمت ہوگی اور باہر عذاب
يُنَادُونَهُمْ أَلَمْ نَكُن مَّعَكُمْ ۖ قَالُوا۟ بَلَىٰ وَلَٰكِنَّكُمْ فَتَنتُمْ أَنفُسَكُمْ وَتَرَبَّصْتُمْ وَٱرْتَبْتُمْ وَغَرَّتْكُمُ ٱلْأَمَانِىُّ حَتَّىٰ جَآءَ أَمْرُ ٱللَّهِ وَغَرَّكُم بِٱللَّهِ ٱلْغَرُورُ
وہ مومنوں سے پکار پکار کر کہیں گے کیا ہم تمہارے ساتھ نہ تھے؟ مومن جواب دیں گے ہاں، مگر تم نے اپنے آپ کو خود فتنے میں ڈالا، موقع پرستی کی، شک میں پڑے رہے، اور جھوٹی توقعات تمہیں فریب دیتی رہیں، یہاں تک کہ اللہ کا فیصلہ آ گیا، اور آخر وقت تک وہ بڑا دھوکے باز تمہیں اللہ کے معاملہ میں دھوکا دیتا رہا
فَٱلْيَوْمَ لَا يُؤْخَذُ مِنكُمْ فِدْيَةٌۭ وَلَا مِنَ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ ۚ مَأْوَىٰكُمُ ٱلنَّارُ ۖ هِىَ مَوْلَىٰكُمْ ۖ وَبِئْسَ ٱلْمَصِيرُ
لہٰذا آج نہ تم سے کوئی فدیہ قبول کیا جائے گا اور نہ اُن لوگوں سے جنہوں نے کھلا کھلا کفر کیا تھا تمہارا ٹھکانا جہنم ہے، وہی تمہاری خبر گیری کرنے والی ہے اور یہ بدترین انجام ہے
۞ أَلَمْ يَأْنِ لِلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ أَن تَخْشَعَ قُلُوبُهُمْ لِذِكْرِ ٱللَّهِ وَمَا نَزَلَ مِنَ ٱلْحَقِّ وَلَا يَكُونُوا۟ كَٱلَّذِينَ أُوتُوا۟ ٱلْكِتَٰبَ مِن قَبْلُ فَطَالَ عَلَيْهِمُ ٱلْأَمَدُ فَقَسَتْ قُلُوبُهُمْ ۖ وَكَثِيرٌۭ مِّنْهُمْ فَٰسِقُونَ
کیا ایمان لانے والوں کے لیے ابھی وہ وقت نہیں آیا کہ اُن کے دل اللہ کے ذکر سے پگھلیں اور اُس کے نازل کردہ حق کے آگے جھکیں اور وہ اُن لوگوں کی طرح نہ ہو جائیں جنہیں پہلے کتاب دی گئی تھی، پھر ایک لمبی مدت اُن پر گزر گئی تو ان کے دل سخت ہو گئے اور آج ان میں سے اکثر فاسق بنے ہوئے ہیں؟
ٱعْلَمُوٓا۟ أَنَّ ٱللَّهَ يُحْىِ ٱلْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا ۚ قَدْ بَيَّنَّا لَكُمُ ٱلْءَايَٰتِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ
خوب جان لو کہ، اللہ زمین کو اُس کی موت کے بعد زندگی بخشتا ہے، ہم نے نشانیاں تم کو صاف صاف دکھا دی ہیں، شاید کہ تم عقل سے کام لو
إِنَّ ٱلْمُصَّدِّقِينَ وَٱلْمُصَّدِّقَٰتِ وَأَقْرَضُوا۟ ٱللَّهَ قَرْضًا حَسَنًۭا يُضَٰعَفُ لَهُمْ وَلَهُمْ أَجْرٌۭ كَرِيمٌۭ
مردوں اور عورتوں میں سے جو لوگ صدقات دینے والے ہیں اور جنہوں نے اللہ کو قرض حسن دیا ہے، اُن کو یقیناً کئی گنا بڑھا کر دیا جائے گا اور ان کے لیے بہترین اجر ہے
وَٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ بِٱللَّهِ وَرُسُلِهِۦٓ أُو۟لَٰٓئِكَ هُمُ ٱلصِّدِّيقُونَ ۖ وَٱلشُّهَدَآءُ عِندَ رَبِّهِمْ لَهُمْ أَجْرُهُمْ وَنُورُهُمْ ۖ وَٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ وَكَذَّبُوا۟ بِـَٔايَٰتِنَآ أُو۟لَٰٓئِكَ أَصْحَٰبُ ٱلْجَحِيمِ
اور جو لوگ اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے ہیں وہی اپنے رب کے نزدیک صدیق اور شہید ہیں، اُن کے لیے اُن کا اجر اور اُن کا نور ہے اور جن لوگوں نے کفر کیا ہے اور ہماری آیات کو جھٹلایا ہے وہ دوزخی ہیں
ٱعْلَمُوٓا۟ أَنَّمَا ٱلْحَيَوٰةُ ٱلدُّنْيَا لَعِبٌۭ وَلَهْوٌۭ وَزِينَةٌۭ وَتَفَاخُرٌۢ بَيْنَكُمْ وَتَكَاثُرٌۭ فِى ٱلْأَمْوَٰلِ وَٱلْأَوْلَٰدِ ۖ كَمَثَلِ غَيْثٍ أَعْجَبَ ٱلْكُفَّارَ نَبَاتُهُۥ ثُمَّ يَهِيجُ فَتَرَىٰهُ مُصْفَرًّۭا ثُمَّ يَكُونُ حُطَٰمًۭا ۖ وَفِى ٱلْءَاخِرَةِ عَذَابٌۭ شَدِيدٌۭ وَمَغْفِرَةٌۭ مِّنَ ٱللَّهِ وَرِضْوَٰنٌۭ ۚ وَمَا ٱلْحَيَوٰةُ ٱلدُّنْيَآ إِلَّا مَتَٰعُ ٱلْغُرُورِ
خوب جان لو کہ یہ دنیا کی زندگی اس کے سوا کچھ نہیں کہ ایک کھیل اور دل لگی اور ظاہری ٹیپ ٹاپ اور تمہارا آپس میں ایک دوسرے پر فخر جتانا اور مال و اولاد میں ایک دوسرے سے بڑھ جانے کی کوشش کرنا ہے اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک بارش ہو گئی تو اس سے پیدا ہونے والی نباتات کو دیکھ کر کاشت کار خوش ہو گئے پھر وہی کھیتی پک جاتی ہے اور تم دیکھتے ہو کہ وہ زرد ہو گئی پھر وہ بھس بن کر رہ جاتی ہے اِس کے برعکس آخرت وہ جگہ ہے جہاں سخت عذاب ہے اور اللہ کی مغفرت اور اس کی خوشنودی ہے دنیا کی زندگی ایک دھوکے کی ٹٹی کے سوا کچھ نہیں
سَابِقُوٓا۟ إِلَىٰ مَغْفِرَةٍۢ مِّن رَّبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا كَعَرْضِ ٱلسَّمَآءِ وَٱلْأَرْضِ أُعِدَّتْ لِلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ بِٱللَّهِ وَرُسُلِهِۦ ۚ ذَٰلِكَ فَضْلُ ٱللَّهِ يُؤْتِيهِ مَن يَشَآءُ ۚ وَٱللَّهُ ذُو ٱلْفَضْلِ ٱلْعَظِيمِ
دوڑو اور ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرو اپنے رب کی مغفرت اور اُس کی جنت کی طرف جس کی وسعت آسمان و زمین جیسی ہے، جو مہیا کی گئی ہے اُن لوگوں کے لیے جو اللہ اور اُس کے رسولوں پر ایمان لائے ہوں یہ اللہ کا فضل ہے، جسے چاہتا ہے عطا فرماتا ہے، اور اللہ بڑے فضل والا ہے
مَآ أَصَابَ مِن مُّصِيبَةٍۢ فِى ٱلْأَرْضِ وَلَا فِىٓ أَنفُسِكُمْ إِلَّا فِى كِتَٰبٍۢ مِّن قَبْلِ أَن نَّبْرَأَهَآ ۚ إِنَّ ذَٰلِكَ عَلَى ٱللَّهِ يَسِيرٌۭ
کوئی مصیبت ایسی نہیں ہے جو زمین میں یا تمہارے اپنے نفس پر نازل ہوتی ہو اور ہم نے اس کو پیدا کرنے سے پہلے ایک کتاب میں لکھ نہ رکھا ہو ایسا کرنا اللہ کے لیے بہت آسان کام ہے
لِّكَيْلَا تَأْسَوْا۟ عَلَىٰ مَا فَاتَكُمْ وَلَا تَفْرَحُوا۟ بِمَآ ءَاتَىٰكُمْ ۗ وَٱللَّهُ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍۢ فَخُورٍ
(یہ سب کچھ اس لیے ہے) تاکہ جو کچھ بھی نقصان تمہیں ہو اس پر تم دل شکستہ نہ ہو اور جو کچھ اللہ تمہیں عطا فرمائے اس پر پھول نہ جاؤ اللہ ایسے لوگوں کو پسند نہیں کرتا جو اپنے آپ کو بڑی چیز سمجھتے ہیں اور فخر جتاتے ہیں
ٱلَّذِينَ يَبْخَلُونَ وَيَأْمُرُونَ ٱلنَّاسَ بِٱلْبُخْلِ ۗ وَمَن يَتَوَلَّ فَإِنَّ ٱللَّهَ هُوَ ٱلْغَنِىُّ ٱلْحَمِيدُ
جو خود بخل کرتے ہیں اور دوسروں کو بخل پر اکساتے ہیں اب اگر کوئی رو گردانی کرتا ہے تو اللہ بے نیاز اور ستودہ صفات ہے
لَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِٱلْبَيِّنَٰتِ وَأَنزَلْنَا مَعَهُمُ ٱلْكِتَٰبَ وَٱلْمِيزَانَ لِيَقُومَ ٱلنَّاسُ بِٱلْقِسْطِ ۖ وَأَنزَلْنَا ٱلْحَدِيدَ فِيهِ بَأْسٌۭ شَدِيدٌۭ وَمَنَٰفِعُ لِلنَّاسِ وَلِيَعْلَمَ ٱللَّهُ مَن يَنصُرُهُۥ وَرُسُلَهُۥ بِٱلْغَيْبِ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ قَوِىٌّ عَزِيزٌۭ
ہم نے اپنے رسولوں کو صاف صاف نشانیوں اور ہدایات کے ساتھ بھیجا، اور اُن کے ساتھ کتاب اور میزان نازل کی تاکہ لوگ انصاف پر قائم ہوں، اور لوہا اتارا جس میں بڑا زور ہے اور لوگوں کے لیے منافع ہیں یہ اس لیے کیا گیا ہے کہ اللہ کو معلوم ہو جائے کہ کون اُس کو دیکھے بغیر اس کی اور اُس کے رسولوں کی مدد کرتا ہے یقیناً اللہ بڑی قوت والا اور زبردست ہے
وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا نُوحًۭا وَإِبْرَٰهِيمَ وَجَعَلْنَا فِى ذُرِّيَّتِهِمَا ٱلنُّبُوَّةَ وَٱلْكِتَٰبَ ۖ فَمِنْهُم مُّهْتَدٍۢ ۖ وَكَثِيرٌۭ مِّنْهُمْ فَٰسِقُونَ
ہم نے نوحؑ اور ابراہیمؑ کو بھیجا اور اُن دونوں کی نسل میں نبوت اور کتاب رکھ دی پھر ان کی اولاد میں سے کسی نے ہدایت اختیار کی اور بہت سے فاسق ہو گئے
ثُمَّ قَفَّيْنَا عَلَىٰٓ ءَاثَٰرِهِم بِرُسُلِنَا وَقَفَّيْنَا بِعِيسَى ٱبْنِ مَرْيَمَ وَءَاتَيْنَٰهُ ٱلْإِنجِيلَ وَجَعَلْنَا فِى قُلُوبِ ٱلَّذِينَ ٱتَّبَعُوهُ رَأْفَةًۭ وَرَحْمَةًۭ وَرَهْبَانِيَّةً ٱبْتَدَعُوهَا مَا كَتَبْنَٰهَا عَلَيْهِمْ إِلَّا ٱبْتِغَآءَ رِضْوَٰنِ ٱللَّهِ فَمَا رَعَوْهَا حَقَّ رِعَايَتِهَا ۖ فَـَٔاتَيْنَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ مِنْهُمْ أَجْرَهُمْ ۖ وَكَثِيرٌۭ مِّنْهُمْ فَٰسِقُونَ
اُن کے بعد ہم نے پے در پے اپنے رسول بھیجے، اور ان سب کے بعد عیسیٰؑ ابن مریم کو مبعوث کیا اور اُس کو انجیل عطا کی اور جن لوگوں نے اس کی پیروی اختیار کی اُن کے دلوں میں ہم نے ترس اور رحم ڈال دیا اور رہبانیت انہوں نے خود ایجاد کرلی، ہم نے اُسے اُن پر فرض نہیں کیا تھا، مگر اللہ کی خوشنودی کی طلب میں انہوں نے آپ ہی یہ بدعت نکالی اور پھر اس کی پابندی کرنے کا جو حق تھا اسے ادا نہ کیا اُن میں سے جو لوگ ایمان لائے ہوئے تھے اُن کا اجر ہم نے ان کو عطا کیا، مگر ان میں سے اکثر لوگ فاسق ہیں
يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ ٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ وَءَامِنُوا۟ بِرَسُولِهِۦ يُؤْتِكُمْ كِفْلَيْنِ مِن رَّحْمَتِهِۦ وَيَجْعَل لَّكُمْ نُورًۭا تَمْشُونَ بِهِۦ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ۚ وَٱللَّهُ غَفُورٌۭ رَّحِيمٌۭ
اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اللہ سے ڈرو اور اس کے رسولؐ پر ایمان لاؤ، اللہ تمہیں اپنی رحمت کا دوہرا حصہ عطا فرمائے گا اور تمہیں وہ نور بخشے گا جس کی روشنی میں تم چلو گے، اور تمہارے قصور معاف کر دے گا، اللہ بڑا معاف کرنے والا اور مہربان ہے
لِّئَلَّا يَعْلَمَ أَهْلُ ٱلْكِتَٰبِ أَلَّا يَقْدِرُونَ عَلَىٰ شَىْءٍۢ مِّن فَضْلِ ٱللَّهِ ۙ وَأَنَّ ٱلْفَضْلَ بِيَدِ ٱللَّهِ يُؤْتِيهِ مَن يَشَآءُ ۚ وَٱللَّهُ ذُو ٱلْفَضْلِ ٱلْعَظِيمِ
(تم کو یہ روش اختیار کرنی چاہیے) تاکہ اہل کتاب کو معلوم ہو جائے کہ اللہ کے فضل پر اُن کا کوئی اجارہ نہیں ہے، اور یہ کہ اللہ کا فضل اس کے اپنے ہی ہاتھ میں ہے، جسے چاہتا ہے عطا فرماتا ہے، اور وہ بڑے فضل والا ہے